چین کے مشرقی ساحلی علاقوں کی جانب بڑھنے والے شدید سمندری طوفان ڈولفن کے پیش نظر بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں، حکام نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے باعث ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔
چین کے نیشنل میٹرولوجیکل سینٹر نے اتوار کی صبح طوفان ڈولفن کے حوالے سے سرخ الرٹ جاری کیا، جو ملک میں سمندری طوفان کے لیے سب سے شدید نوعیت کی وارننگ ہے محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان اتوار کی رات یا پیر کے روز چین کے مشرقی ساحل سے ٹکرائے گا، اس دوران ہواؤں کی رفتار 162 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق شنگھائی کے ہونگ چیاؤ اور پوڈونگ ایئرپورٹس پر اتوار کو تقریباً 1400 پروازیں منسوخ کردی گئیں، جبکہ پڑوسی صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگژو کے ایئرپورٹ پر بھی اندرون و بیرون ملک آنے اور جانے والی 270 پروازیں منسوخ کی گئیں،ژی جیانگ کے شہر تائی ژو میں ہفتے کی شام تقریباً 3 لاکھ 90 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ شنگھائی کے حساس اور خطرے سے دوچار علاقوں سے 30 ہزار سے زائد افراد کو منتقل کیا گیا ہے،صوبہ فوجیان میں بھی ہفتے کی شام تک تقریباً 99 ہزار افراد کو خطرناک علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا طوفان کے باعث ژی جیانگ اور فوجیان میں 200 سے زائد فیری روٹس پر سروس معطل کردی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے ژی جیانگ کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں غیر معمولی موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے، جہاں بعض مقامات پر 250 سے 500 ملی میٹر تک بارش ہوسکتی ہے شنگھائی، شمالی فوجیان، شمال مشرقی جیانگ شی، وسطی و جنوبی انہوئی اور صوبہ جیانگ سو کے بیشتر علاقوں میں بھی پیر تک شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، جبکہ طوفانی ہوائیں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں محکمہ موسمیات کے مطابق چین میں داخل ہونے کے بعد طوفان کی شدت بتدریج کم ہونے اور اس کے اندرونِ ملک منتقل ہونے کا امکان ہے۔
طوفان ڈولفن کے بیرونی حصے ہفتے سے ہی شمالی تائیوان کو متاثر کررہے ہیں، جہاں دارالحکومت تائی پے سمیت مختلف علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث درجنوں فیری سروسز معطل جبکہ 180 سے زائد پروازیں منسوخ کردی گئیں،اس سے قبل طوفان ڈولفن جاپان کے جنوبی صوبے اوکیناوا سے گزرا، جہاں طوفان کے باعث سات افراد زخمی ہوئے جبکہ 50 ہزار سے زائد عمارتوں کی بجلی متاثر ہوئی، اوکیناوا الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق اتوار کی دوپہر تک 5 ہزار 290 گھرانے بجلی سے محروم تھے۔
