نوجوان تاجر میر رضا کی کراچی کے فیروز آباد تھانے میں درج اغوا کی ایف آئی آر کو قتل کے مقدمے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
مقتول کی قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کی روشنی میں فیروز آباد تھانے کی ایف آئی آر نمبر 795/2026 میں ترمیم کی گئی ہے،پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ 302 شامل کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی کے نوجوان تاجر اور کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ 28 جولائی 2026ء کو سامنے آیا، جب وہ گھر سے لاپتہ ہوئے اور اگلے روز گلستانِ جوہر کے قریب سے ان کی لاش برآمد ہوئی،ابتدائی طور پر کیس کو کروڑوں روپے کے مالی خسارے، قرض اور لین دین کے معاملات سے جوڑ کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اور ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے لائی جس میں ادائیگیوں کا ذکر کیا جا رہا تھا۔
تاہم خاندان کے شدید احتجاج اور تفتیش پر عدم اعتماد کے بعد عدالت کے حکم پر گزشتہ روز طارق روڈ قبرستان میں میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں میر رضا کی قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق مقتول کو پیچھے (کمر) سے گولی لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے، جس سے اہل خانہ کا قتل کا شک درست ثابت ہوا۔
ان کے وکیل جبران ناصر کے مطابق میر رضا نے خودکشی نہیں کی، بلکہ تشدد کے بعد بیہمانہ قتل کیا گیا ہےوہ ایک مظلوم شہید ہے، جو زندگی سے بھرپور تھا معزز عدالت اور اسپیشل میڈیکل بورڈ کا شکریہ، جنہوں نے اپنے قانونی اور پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہوئے میر رضا پر لگائے گئے تمام بہتان جھوٹے ثابت کر دیے،تفتیش میں شفافیت لانے کے لیے مقتول کے وکلا کی درخواست پر پولیس نے سینئر افسران پر مشتمل نئی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ تحقیقاتی ٹیم ازسر نو تفتیش کا آغاز کرے گی اور جائے وقوعہ، لواحقین اوردیگر متعلقہ افراد سے دوبارہ پوچھ گچھ کرنے کے علاوہ تمام شواہد کا بھی از سر نو جائزہ لے گی۔
