ممبئی پولیس نے بالی ووڈ کے 73 سالہ فلم ساز شکیل نورانی کو جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ کے کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق فلم ساز شکیل نورانی گزشتہ تقریباً 40 دنوں سے پولیس کو چکمہ دے کر فرار تھے، جنہیں بالآخر مہاراشٹر کے ضلع ستارہ کے ایک فارم ہاؤس سے کافی تلاش کے بعد حراست میں لیا گیا،یہ کارروائی ایک 33 سالہ اداکارہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی ہے۔
پولیس میں جمع کرائی گئی شکایت کے مطابق اداکارہ کا شکیل نورانی سے پہلا رابطہ 2016 میں ہوا تھا،اداکارہ نے الزام لگایا ہے کہ فلم ساز نے ان کا سالوں تک بار بار جنسی استحصال کیا،شکیل نورانی نے انہیں نشہ آور ادویات دیں اور قابل اعتراض حالات میں ان کی ویڈیوز ریکارڈ کیں، شکیل نورانی ان ویڈیوز کو عام کرنے کی دھمکی دے کر انہیں بلیک میل کرتے رہے اور ان مبینہ واقعات کے نتیجے میں ان کا حمل بھی ضائع ہو گیا تھا۔
کیس درج ہونے کے بعد پولیس نے فلم ساز شکیل نورانی کی تلاش شروع کی اور مسلسل چھاپے مارنے کے بعد انہیں ریاست مہاراشٹرکے ضلع ستارا سے گرفتار کر لیا،ڈپٹی کمشنر آف پولیس سندیپ گھگے نے شکیل نورانی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ہے اور قانون کے مطابق معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، شکیل نورانی کے خلاف بھارتیہ نَیائے سنہیتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ان کے وکیل نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی ہےاس وقت فلم ساز شکیل نورانی پولیس تحویل میں ہیں پولیس معاملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیق کر رہی ہے، جبکہ تمام الزامات کا عدالت میں ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
