Baaghi TV

تحصیل آفس گوجرخان میں افسران کی عدم تعیناتی، رجسٹریاں اور آراضی معاملات ٹھپ

gujar khan

تحصیلدار سمیت 4 اہم نشستیں خالی، شہری سرکاری فیسیں جمع کراکے بھی خوار
ایک ماہ سے انتظامی خلا، پنجاب حکومت کی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان فوری تعیناتی کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل آفس گوجرخان میں گزشتہ ایک ماہ سے تحصیلدار اور متعدد نائب تحصیلداروں کی نشستیں خالی ہونے کے باعث رجسٹریوں سمیت اراضی کے دیگر اہم معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے شہری کاغذات مکمل اور سرکاری فیسیں جمع کرانے کے باوجود کام نہ ہونے پر شدید ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ تحصیل آفس میں اس وقت صرف ایک نائب تحصیلدار موجود ہے، جبکہ تحصیلدار سمیت تین نائب تحصیلداروں کی نشستیں تاحال خالی پڑی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحصیل آفس میں تعینات تحصیلدار کورس پر جانے کے باعث کئی روز قبل خالی ہونے والی نشست پر تاحال متبادل تحصیلدار تعینات نہیں کیا جا سکا، جبکہ نائب تحصیلداروں کی خالی نشستوں پر بھی تقرری نہ ہونے سے انتظامی امور کا بوجھ محدود عملے پر پڑ گیا ہے۔ تحصیلدار کی عدم موجودگی کے باعث متعدد رجسٹریاں التوا کا شکار ہیں بعض شہریوں کی سرکاری فیسیں بھی جمع ہو چکی ہیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود صرف مجاز افسر کی عدم موجودگی کے باعث ان کی رجسٹریاں آگے نہیں بڑھ رہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زمینوں کی خرید و فروخت، انتقالات اور دیگر معاملات میں تاخیر سے نہ صرف انہیں بار بار تحصیل آفس کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں بلکہ مالی اور ذہنی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔ ایک ماہ کے قریب عرصہ گزرنے کے باوجود اہم انتظامی نشستوں پر افسران کی تعیناتی نہ ہونا باعث تشویش ہے۔ شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک تحصیل میں اتنے اہم عہدے خالی ہوں اور عوام کے بنیادی ریونیو معاملات متاثر ہو رہے ہوں تو متعلقہ حکام کی جانب سے فوری متبادل انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان تحصیل آفس کی صورتحال کا فوری نوٹس لے کر تحصیلدار اور خالی تمام نائب تحصیلداروں کی نشستوں پر بلا تاخیر تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ رجسٹریوں اور اراضی سے متعلق زیرالتوا معاملات نمٹائے جا سکیں اور عوام کو غیرضروری دفتری چکروں، ذہنی اذیت اور مالی نقصان سے نجات مل سکے۔ شہریوں کے مطابق موجودہ صورتحال انتظامی کارکردگی اور حکومت پنجاب کی گڈ گورننس کے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان بن رہی ہے۔

More posts