Baaghi TV

طلبہ احتجاج پر متنازع بیان، بھارتی سیاسی مبصر پولیس حراست میں

‎بھارتی سیاسی مبصر اور سماجی کارکن ٹی جی موہن داس کو طلبہ کے احتجاج سے متعلق متنازع بیان دینے کے الزام میں پولیس نے ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا۔
‎بھارتی میڈیا کے مطابق سائبر پولیس کی ایک ٹیم اتوار کی شام مقامی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ موہن داس کی رہائش گاہ پہنچی، جہاں موجود ہونے کے بعد انہیں تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے ان کے یوٹیوب اکاؤنٹ اور ویڈیوز بنانے اور اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیجیٹل آلات سے متعلق معلومات بھی حاصل کیں۔
‎پولیس حکام کے مطابق موہن داس کے خلاف شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان سے متنازع بیان کے حوالے سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق موہن داس کے یوٹیوب چینل ’پتریکا‘ پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو میں دہلی میں مبینہ نیٹ پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ویڈیو کا مقصد عوامی امن میں خلل ڈالنا، خوف پیدا کرنا اور معاشرے میں بے چینی پھیلانا تھا۔
‎متنازع ویڈیو میں موہن داس نے دعویٰ کیا تھا کہ طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں اجتماعی زیادتی جیسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ انہوں نے احتجاج میں شریک خواتین کے بارے میں بھی انتہائی متنازع اور قابل اعتراض ریمارکس دیے۔
‎انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر وہ حکومت میں ہوتے تو احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کرفیو نافذ کرتے اور مزاحمت کی صورت میں فائرنگ کا حکم دیتے۔ ان کے بیان کے مطابق اس کارروائی میں بعض افراد ہلاک یا مستقل طور پر زخمی ہوسکتے تھے، تاہم چند گھنٹوں میں حالات قابو میں آ جاتے۔
‎پولیس نے موہن داس کو حراست میں لینے کے بعد ان کے بیان، یوٹیوب ویڈیوز اور ڈیجیٹل مواد کی بنیاد پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ معاملے میں قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ حتمی طور پر الزامات ثابت ہونا عدالتی عمل سے مشروط ہوگا۔

More posts