Baaghi TV

ننکانہ ،پولیس کی مبینہ غیر قانونی حراست سے خاتون برآمد

احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

ننکانہ صاحب تھانہ صدرننکانہ پولیس کی مبینہ غیر قانونی حراست سے خاتون برآمد۔عدالت نے ڈی پی او کو تین روز میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا،14 دنوں میں تفتیش مکمل کر کے عدالت میں جامع رپورٹ داخل کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں، عدالت نے کہا کہ کسی بھی خاتون کو غیر قانونی حراست میں رکھنا آیئن پاکستان کی سنگین خلاف ورزی ہے

تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی حدود میں مبینہ غیر قانونی حراست، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے جہاں صدیق کالونی کی رہائشی شمیم بی بی نے اپنی جواں سالہ بیٹی شکیلہ پروین اور بیٹے مدثر حسین کو مبینہ طور پر پولیس کی غیر قانونی حراست میں رکھنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیادرخواست گزار کا الزام تھا کہ پولیس اہلکاران آصف اقبال ایس ایچ او معہ کانسٹیلان ظہیر احمد اور کاشف وغیرہ 31 جولائی کو صبح تقریباً نو بجے دن مبینہ طور پر زبردستی اس کے گھر میں داخل ہوئے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور اس کی بیٹی شکیلہ پروین اور بیٹے مدثر حسین کو اپنے ساتھ لے گئے۔ درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے بغیر شکیلہ پروین کو تھانہ میں رکھا گیا اور اہل خانہ سے مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا، بصورت دیگر جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکی دی گئی جس پر جناب عبد الحفیظ بھٹہ صاحب ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نے عدالتی بیلف مقرر کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران تھانہ کا رجسٹر چیک کیا گیا تو پر شکیلہ پروین کی گرفتاری یا کسی مقدمے کے تحت حراست کا اندراج موجود نہیں تھا
بیلف کی کارروائی کے دوران شکیلہ پروین کو مبینہ طور پر تھانہ کے ایک ایسے کمرے سے برآمد کیا گیا جو ایس ایس آئی او یونٹ تفتیشی عملے کے دفتر سے منسلک تھااور خواتین ملزمان کی تفتیش کے لیے مختص ہے شکیلہ پروین نے بیلف کے سامنے بیان دیا کہ اسے تقریباً 24 گھنٹے سے زائد تھانہ میں رکھا گیا ہےتاہم مغوی مدثر حسین برآمد نہ ہو سکا ہے
دوسری جانب مقامی پولیس نے عدالت میں تحریری مؤقف لیتے ہوے بتایا ہے کہ مذکورہ خاتون کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود کمرے میں آ کر بیٹھی ہوئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پولیس کو اپنے موقف کی سچائی ثابت کرنے کے لیے تھانہ کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ پیش کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا تھا لیکن پولیس ایسا ثبوت جو ان کے مکمل اختیار میں ہے عدالت میں پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ عدالت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او ننکانہ صاحب کو متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف تین روز کے اندر مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور کم از کم ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیش کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں ہیں عدالت نے ڈی پی او ننکانہ کو مزید احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ 31 جولائی سے لے کر یکم اگست تک تھانہ کا تمام دستاویزی اور الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ کریں اور 14 دنوں کے اندر تفتیش مکمل کرکے عدالت میں جامع رپورٹ داخل کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں ہیں
ضلع ننکانہ صاحب میں انسانی بنیادی حقوق، شہری آزادیوں اور پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے بالخصوص ایسے وقت میں صوبے میں خواتین کے تحفظ اور وقار کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں اور صوبہ کی وزیراعلی ایک خاتون ہے اس کے ساتھ ساتھ صوبہ کی چیف جسٹس بھی ایک خاتون ہی ہے اور خاتون کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے

More posts