ایران میں جاسوسی کے الزام میں قید برطانوی جوڑے کریگ اور لنڈسے فورمین نے کئی ماہ جاری رہنے والی بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔
کریگ اور لنڈسے فورمین کو ایران میں سفر کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں کو جنوری 2025 میں مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جوڑے نے اپنی گرفتاری اور مقدمے کے حوالے سے الزامات کی تردید کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں نے اپنی حراست کے دوران احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جس کا مقصد اپنی صورتحال کی جانب توجہ مبذول کرانا اور برطانوی حکومت سے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرنا تھا۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوئی۔
کریگ اور لنڈسے فورمین ایران کا سفر کر رہے تھے جب انہیں حکام نے گرفتار کیا۔ بعد ازاں ایرانی عدالت نے انہیں قومی سلامتی سے متعلق الزامات میں سزا سنائی۔ ان کے اہل خانہ اور برطانوی حکام نے مقدمے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ ایران میں زیر حراست غیر ملکی شہریوں کے معاملات ماضی میں بھی برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ سفارتی تنازعات کا باعث بنتے رہے ہیں۔
برطانوی حکومت اپنے شہریوں کی رہائی اور ان کے ساتھ مناسب سلوک کے لیے ایرانی حکام سے رابطے میں رہی ہے۔ تاہم جوڑے کی قید اور ان کے خلاف مقدمے کے حوالے سے صورتحال تاحال مکمل طور پر حل نہیں ہوسکی۔
ایران میں قید برطانوی جوڑے نے کئی ماہ بعد بھوک ہڑتال ختم کردی
