پاسداران انقلاب ایران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ رمضان میں ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اب ایک بھی امریکی بحری جہاز خلیج فارس میں موجود نہیں۔
اپنے بیان میں بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران پر مسلط جنگ کے وقت خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی جہاز تھے ، اب ایک بھی جہاز خلیج فارس میں موجود نہیں ماضی میں ہوئی ایران عراق جنگ کے وقت امریکا سو سے زائد جنگی جہاز خلیج فارس لایا تھا تاہم اس وقت خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی جہاز نہیں ہے تاہم انہوں نے ایران کی ناکہ بندی کرنیوالے امریکی بحری جہازوں کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ میں ایران کے ردعمل سے دشمن کو نقصان اٹھانا پڑا ہے امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی مرکز پر بمباری کی تھی جس کا جواب امریکا، اسرائیل اور اسکے اتحادیوں پر ایسے حملوں سے دیا گیا تھا کہ امریکا کے لیے یہ جنگ اسی قوت سے جاری رکھنا مشکل ہو گیا تھا،اب اگر ایران کو پھر خطرات کا سامنا ہوا تو خطے میں تمام امریکی اور غیر امریکی توانائی سسٹمز اور انٹرنیٹ سے جڑا عالمی انفراسٹرکچر تباہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب سیکرٹری ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز تب تک بند رہے گی جب تک امریکا اپنے رویہ تبدیل نہ کردے،مریکا کو جنگ ختم اور ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنا ہوں گے ، دیگر شرائط کو ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا گیا ہے۔
ادھر،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ میں امریکا کو 13 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ جبکہ 42 سے زائد امریکی فوجی طیارے تباہ یا شدید متاثر ہوئےہیں جنگ کے آغاز سےاب تک ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے 2 ہزار سے زائد فضائی، میزائل اور ڈرون حملے کیے ان حملوں کے نتیجے میں 8 ممالک میں موجود کم از کم 20 ایسی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا جہاں امریکی فوج موجود ہے یا انہیں استعمال کرتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے میں امریکی فوج کی سمندر پار تنصیبات، اہم دفاعی ڈھانچے اور فوجیوں کے تحفظ سے متعلق کمزوریوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی دفاعی نظام کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کیے ہیں،عراق، کویت، بحرین، قطر اور دیگر ممالک میں تعینات ہزاروں امریکی فوجی بھی ان حالات میں دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے بھی امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی ہے رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران اب تک 1500 سے زائد پیٹریاٹ میزائل اور ہزاروں طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے جاچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ مکمل کرنے میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں رپورٹ کے مطابق امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پہلے ہی یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کے باعث دباؤ میں تھے، تاہم ایران کے ساتھ جاری تنازع نے اس صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے ہتھیاروں کی کمی کے باعث یورپ اور ایشیا میں ممکنہ نئے خطرات سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
تجزیے کے مطابق روس اور چین بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ تائیوان یا مشرقی یورپ جیسے حساس علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے حالات عالمی سیکیورٹی کے موجودہ نظام پر طویل مدتی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
