وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں مزید صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کی بات ہو تو عزت اور غیرت کی بات کی جاتی ہے، لیکن جب بچے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوتے ہیں تو کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟
پاکستان فارما ہیلتھ کیئر ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں موجودہ انتظامی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ وفاق ہر سال 8 ہزار 884 ارب روپے صوبوں میں تقسیم کرتا ہے، لیکن اتنی بڑی رقم چار وزرائے اعلیٰ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ فنڈز یونین کونسلز تک پہنچانے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کئی ممالک سے بڑے ہیں، سندھ 165 ممالک سے بڑا جبکہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے 180 ممالک سے بڑا ہے۔ ان کے مطابق جب پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 70 لاکھ تھی تو بھی ملک میں چار صوبے تھے اور آج آبادی ساڑھے 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے لیکن صوبوں کی تعداد اب بھی چار ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سری لنکا میں 9، ایران میں 23 جبکہ بھارت میں بھی متعدد صوبے ہیں، صوبے بنانے سے ملک نہیں ٹوٹتا بلکہ انتظامی طور پر مزید مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں کچھ ایسی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ملک کے بعض علاقوں میں لوگ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لڑائی جاری ہے اور فوجی افسران شہید ہو رہے ہیں، جبکہ ان واقعات میں بیرونی عناصر بھی شامل ہیں۔ ملک میں امن و استحکام کے لیے نظام کی خامیوں کو جڑ سے دور کرنا ہوگا۔پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح عطا کی اور پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں دشمن کو 6 دن میں شکست دی۔ ان کے بقول دنیا نے یہ سوچا کہ دفاع کے اعتبار سے پاکستان سے بہتر دوست کوئی نہیں ہوسکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے میں کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وہ 14 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں، وزیراعظم تین مرتبہ وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا کام گٹر کے ڈھکن لگانا نہیں بلکہ نظام کو مضبوط بنانا ہے۔مصطفیٰ کمال نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مل بیٹھ کر موجودہ مسائل کا آئینی حل تلاش کریں اور ملک کے انتظامی نظام میں ضروری اصلاحات لائی جائیں۔
