مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ’’آزادی کا پیغام، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نظام‘‘ کے عنوان سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، علماء و مشائخ، تاجر برادری اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں قیامِ پاکستان کے مقاصد، نظریۂ پاکستان، قومی سلامتی، ملکی خودمختاری اور سیاسی و معاشی بحرانوں کے حل پر گفتگو کی گئی۔
کانفرنس سے جوائنٹ سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ و چیئرمین رابطہ علماء و مشائخ شیخ محمد یعقوب، صدر مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا رانا محمد اشفاق، چیف خطیب خیبرپختونخوا محمد طیب قریشی، ایم پی اے مسلم لیگ ن ملک طارق اعوان سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
اس موقع پر جنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ پشاور ڈویژن یاور آفتاب، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطا الرحمن، صدر ملی لیبر فیڈریشن پاکستان رانا شمشاد، صدر پاکستان پیپلز پارٹی پشاور ڈویژن مصباح الدین، صوبائی صدر مرکزی جمعیت اہلحدیث مولانا فضل الرحمن مدنی، صوبائی رہنما جمعیت علمائے اسلام (س) سید یوسف شاہ، صدر چیمبر آف کامرس پشاور مہر الٰہی، صوبائی رہنما مسلم لیگ (ق) صفدر باغی، رہنما انٹرنیشنل ختم نبوت مولانا عبدالرحمن فاروق، جنرل سیکرٹری مہمند لویہ جرگہ یسین حاجی، صوبائی رہنما جمعیت علمائے اسلام (س) مولانا امین الرحمن رحمانی، قبائلی مشر چہارمنگ ملک شیر بہادر، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) راشد محمود، مہمند لویہ جرگہ کے رہنماؤں جاوید مہمند اور حاجی عبدالرحمن، ضلعی صدر اہل سنت والجماعت فخر عالم صدیق، سنی رابطہ کمیٹی کے طارق حیدری، جنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ انعام اللہ، دائم خان مہمند اور زین اللہ صافی سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
شیخ محمد یعقوب نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ کی یہ آزادی و نظریاتی مہم 11 اگست سے 14 اگست تک جاری رہے گی۔ ہم یوم آزادی کے موقع پر تشکر کے احساس کے ساتھ تجدید عہد کرنا چاہتے ہیں اور قیام پاکستان کے جذبوں اور ولولوں کو دوبارہ بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ علماء اور قائدین سے گزارش ہے کہ 14 اگست کو خطبۂ جمعہ کا موضوع نظریۂ پاکستان اور لا الٰہ الا اللہ بنائیں۔انہوں نے کہا کہ لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر یہ وطن قائم ہوا تھا اور یہی کلمہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معرکۂ حق میں فتح اور دنیا میں عزت عطا کی۔ پاکستان کے محافظین کو گالی دینا دانشمندی نہیں بلکہ ملک دشمنی ہے۔ ہم تجدید عہد کرتے ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت اللہ سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں گے اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر دم حاضر رہیں گے۔شیخ محمد یعقوب نے کہا کہ وطن عزیز میں دہشت گردی اور سازشوں کا پشتیبان بھارت ہے۔ خیبرپختونخوا غیرت مندوں اور دلیروں کا صوبہ ہے جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اس کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔ پاکستان میں موجود خرابیوں کی بنیادی وجہ اللہ کے نظام سے دوری ہے، ہم آئین و قانون کے دائرے میں ایسے نظام کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں جو عدل، انصاف، دیانت اور فلاح پر مبنی ہو۔
رانا محمد اشفاق نے کہا کہ آج کی کانفرنس کا ایجنڈا کوئی نیا ایجنڈا نہیں، بلکہ وہی نکات ہیں جن پر تحریک چلا کر پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔ 1947ء سے قبل برصغیر کے مسلمانوں کے لیے حالات انتہائی کٹھن تھے، لیکن قوم لا الٰہ الا اللہ کے نعرے پر متحد ہوئی۔ تحریک پاکستان کے دوران ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ ہر زبان پر تھا۔
انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کی تحریک میں علماء و مشائخ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو مضبوط کیا جائے اور ملک کو عدل، انصاف، دیانت اور فلاح کے اصولوں پر آگے بڑھایا جائے۔
رانا محمد اشفاق نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم ممالک کے باہمی تعاون کی اہم پیش رفت ہے اور امید ہے کہ دنیائے اسلام کے لیے مزید خوشخبریاں سامنے آئیں گی۔
محمد طیب قریشی نے مرکزی مسلم لیگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کی اصل روح پر قوم کو جمع کرنا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ پاکستان کی بقا اور استحکام لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نظریے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے ملکی دفاع میں کردار ادا کرنے والی قیادت اور افواجِ پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع اور قومی اتحاد کے لیے پوری قوم کو متحد رہنا چاہیے۔
ملک طارق اعوان نے کہا کہ پاکستان کی بہتری کے لیے ہم مرکزی مسلم لیگ کے ہمقدم ہیں۔ پاکستان کے لیے ہر مثبت قومی اقدام میں سب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے یوم آزادی کے موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
کانفرنس کے شرکاء نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی دفاعی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مسلم ممالک کے باہمی اعتماد، دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تعاون مسلم دنیا میں مزید اتحاد، دفاعی و اقتصادی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کی بنیاد بنے گا۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سیاسی بحرانوں کے حل کے لیے مذاکرات اور آئینی بالادستی کو ترجیح دی جائے، مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، قومی سلامتی اور پاکستان کی نظریاتی، جغرافیائی و معاشی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے.قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’’آزادی کا پیغام، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نظام‘‘ کے پیغام کو ملک بھر میں عام کیا جائے گا اور یوم آزادی کو محض جشن کے بجائے نظریۂ پاکستان کی تجدید، قیام پاکستان کے مقصد کی یاد دہانی اور عدل و انصاف پر مبنی مضبوط، خودمختار اور فلاحی پاکستان کے عزم کے طور پر منایا جائے گا۔
