انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) سندھ جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا قتل کیس میں پولیس کی کوتاہیوں کا اعتراف کرلیا۔
سندھ بارکونسل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وکلا اور پولیس ایک ہی کرمنل جسٹس سسٹم کا حصہ ہیں، وکلا سپریم لائسنسنگ اتھارٹی ہیں آپ پر کافی ذمے داری ہے، ہم یہاں مسائل حل کرنے اور حل تلاش کرنے آئے ہیں، 7 ماہ میں 27 ہزار پولیس والوں کو سزائیں دی ہیں، سندھ بار کونسل اپنے اختیارات کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرے، وکلا پڑھا لکھا طبقہ ہے مل کام کریں گے سسٹم مضبوط ہوگا، تھانوں کا گھیراؤ نہیں ہوگا مل بیٹھ کر مسائل حل کریں گے۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ 60 ہزار پولیس اہلکار میں سے ایک لاکھ 32 ہزار ڈیوٹی کررہے ہیں، کراچی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہتر ہے، کراچی میں جرائم میں 14 فیصد کمی آئی ہے، میر رضا کا قتل افسوناک ہے، میر رضا واقعے میں کوتاہیاں ہوئی ہیں قتل کیس پر اب نئی میڈیکو لیگل رپورٹ کی روشنی میں کام ہورہا ہے، نئی ٹیم کو یہی کہا ہے شفاف اور آزادنہ تحقیقات کریں۔
جاوید عالم اوڈھو سے سوال کیا گیا کہ میر رضا کی فیملی نے پرانی انویسٹی گیشن ٹیم کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جو کارروائی ہوگی وہ کریں گے، ابھی تحقیقات جاری ہیں مزید کچھ نہیں کہوں گا،میر رضا کیس افسوسناک ہے، نوجوان کی ناگہانی موت یا قتل افسوسناک ہے، کوتاہیاں سب کی ہیں، میڈیکو لیگل کی بھی کوتاہی ہے، کوتاہیوں کا تدارک کیا جائے گا، والدین نے تحقیقات پر تسلی کا اظہار کیا ہے، دباؤ نہیں، غلط فہمی کی بنیاد تھی۔
