Baaghi TV

افغانستان میں 24 لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم

‎اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی کے سنگین اثرات سے متعلق ایک تشویشناک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔
‎یونیسکو کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ثانوی تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد میں مزید 2 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی برقرار رہی تو سال 2030 تک افغانستان میں تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی انسانی حق ہے اور افغان لڑکیوں اور خواتین کو بھی مساوی طور پر تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یونیسکو نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک کی مذمت کی ہے۔
‎یونیسکو کے مطابق تعلیمی پابندیوں کے افغانستان کی سماجی اور معاشی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 10 سال کی عمر کے 90 فیصد سے زائد بچے سادہ تحریر پڑھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے، جو افغانستان کے تعلیمی نظام کو درپیش سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
‎واضح رہے کہ طالبان حکومت نے مارچ 2022 میں لڑکیوں کو ثانوی اسکولوں میں جانے سے روک دیا تھا، جبکہ اسی سال خواتین طالبات کے لیے جامعات کے دروازے بھی بند کر دیے گئے تھے۔ اس فیصلے کے بعد سے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل افغان حکومت سے لڑکیوں اور خواتین کے تعلیمی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
‎یونیسکو نے زور دیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل اور ترقی کے لیے لڑکیوں کی تعلیم کی بحالی ناگزیر ہے، کیونکہ لاکھوں بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا نہ صرف ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

More posts