Baaghi TV

معاہدہ مکہ، قیامِ پاکستان کے خواب اور اتحادِ امت کی عملی تعبیر ہے۔حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

لاہور ( ) معاہدہ مکہ، قیامِ پاکستان کے خواب اور اتحادِ امت کی عملی تعبیر ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ تحریک پاکستان کا ہی تسلسل ہے ۔ یہ معاہدہ قیامِ پاکستان کے مقاصد سے اہم آہنگ اور عالمِ اسلام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ 14 اگست ہمیں ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسے آزاد وطن کا خواب دیکھا جہاں وہ اپنی دینی، تہذیبی اور قومی شناخت کے ساتھ آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ اسی جدوجہد کے دوران مسلمانوں کے اندر پوری امت کے ساتھ اخوت، ہمدردی اور یکجہتی کا جذبہ بھی نمایاں رہا۔ ا نہوں نے کہا کہ آج اگر پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ جیسے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر خطے کے امن، سلامتی اور دفاع کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کر رہا ہے تو یہ پاکستان کی نظریاتی شناخت اور اس کے تاریخی کردار کا ایک اہم مظہر ہے۔ مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر طے پانے والا یہ معاہدہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، برادرانہ تعلقات اور مشترکہ سلامتی کے عزم کی علامت ہے۔ پاکستان کے قیام کے بنیادی تصورات میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت، آزادی اور باہمی اتحاد کا جذبہ نمایاں تھا۔ آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی دنیا باہمی تعاون کے ذریعے اپنے مشترکہ مفادات اور سلامتی کا تحفظ کر سکتی ہے۔ اننہوں نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں 14 اگست کو صرف جشن کا دن نہیں بلکہ پاکستان کے نظریے، قربانیوں، قومی یکجہتی اور عالمِ اسلام کے ساتھ اخوت کے عہد کی تجدید کا دن بنانا چاہیے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اسے امن و استحکام عطا فرمائے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیر، امن اور سربلندی کا ذریعہ بنائے۔ :::

More posts