لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے مقدمات میں مبینہ طور پر مطلوب ملزم طارق کے بارے میں پنجاب پولیس کے ریکارڈ سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ اس سے قبل بھی دو مقدمات میں شامل رہ چکا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق طارق 2023 میں راولپنڈی کے بنی تھانے میں درج ایک مقدمے میں مدعی تھا، جبکہ 2026 میں اسے لاہور کے راوی روڈ تھانے میں درج غیر قانونی اسلحہ کے مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق غیر قانونی اسلحہ کے مقدمے میں طارق کے قبضے سے 30 بور پستول اور گولیاں برآمد کی گئی تھیں۔ اسلحہ برآمدگی کے بعد پولیس نے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمے کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد طارق کے خلاف چالان بھی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا۔ تاہم اب اس کا نام لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات میں بھی سامنے آیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ملزم کے سابقہ ریکارڈ، رابطوں اور ممکنہ دیگر ساتھیوں سے متعلق تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا اس کا تعلق صرف انفرادی جرائم تک محدود تھا یا وہ کسی منظم گروہ یا نیٹ ورک کا حصہ رہا ہے۔
پولیس حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملزم کے مبینہ کردار سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کی کوشش ہے کہ ملزم کے سابقہ مقدمات اور موجودہ تحقیقات کے درمیان ممکنہ روابط کا بھی جائزہ لیا جائے۔
لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا ملزم طارق پہلے بھی دو مقدمات میں شامل رہا
