چین سے تعلق رکھنے والے پینگ وینل نے ووہان یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اسی جامعہ کے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ تاہم 21 سالہ پینگ وینل کی کامیابی کے پیچھے اغوا، جدائی اور اپنے بیٹے کو واپس پانے کے لیے والدین کی غیر معمولی جدوجہد کی ایک جذباتی داستان موجود ہے۔
پینگ وینل کو 2008 میں صرف تین سال کی عمر میں چین کے شہر شینزن میں اپنے والدین کی دکان کے باہر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ وہ اس وقت دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ مبینہ طور پر ایک شخص انہیں زبردستی اپنے ساتھ بس میں لے گیا اور غائب ہو گیا۔
بیٹے کی گمشدگی نے والدین کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔ ان کی والدہ کا وزن تقریباً 10 کلوگرام تک کم ہو گیا، جبکہ والد پینگ گاؤفینگ نے اپنے بیٹے کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کی۔
ایک صحافی کے مشورے پر والد نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور اپنے بیٹے کی تصاویر آن لائن شیئر کرنا شروع کر دیں۔ کئی برس کی تلاش کے بعد 2011 میں ایک یونیورسٹی طالبعلم نے ایک گاؤں میں ایسے بچے کو دیکھا جو پینگ وینل سے مشابہ تھا۔
طالبعلم کی جانب سے تصاویر بھیجے جانے کے بعد والدین نے پولیس سے رابطہ کیا اور آخرکار تین سال بعد اپنے بیٹے کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ مبینہ اغوا کار بچے کی خواہش رکھتا تھا اور وہ پینگ وینل کو صوبہ جیانگسو کے ایک گاؤں میں لے گیا تھا۔ مبینہ اغوا کار 2010 میں کینسر کے باعث انتقال کر گیا، جبکہ اس کی اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ اسے بچے کے اغوا کے بارے میں علم نہیں تھا۔
اپنی حالیہ تعلیمی کامیابی پر پینگ وینل نے والدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مسلسل ان کی تلاش نہ کرتے تو شاید آج ان کی زندگی بالکل مختلف ہوتی۔
ان کی کہانی والدین کی محبت، امید اور مسلسل جدوجہد کی ایک مثال بن گئی ہے۔
اغوا ہونے والا بچہ پی ایچ ڈی اسکالر بن گیا، والدین کی جدوجہد رنگ لے آئی
