امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز میں امریکی کوششوں میں مداخلت کی تو امریکا فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے خطے کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے عمان کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں اپنے مفادات اور نقل و حمل کے اہم راستوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عمان نے امریکی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو واشنگٹن سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
امریکی صدر اس سے قبل بھی عمان کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں۔ مئی میں بھی ٹرمپ نے عمان کو ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی، تاہم موجودہ بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک مرتبہ پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں ایران سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہ راست پس پردہ رابطے کا ایک راستہ قائم کر لیا ہے۔ تاہم اس رابطے کی نوعیت اور اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی صدر نے اپنی فوجی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس اب بھی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ان کے مطابق اب تک استعمال کیے جانے والے ہتھیار امریکی فوجی ذخائر کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس مختلف نوعیت اور صلاحیت کے جدید ہتھیار موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود سیاسی اور عسکری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی عمان پر حملے کی دھمکی
