کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث 88 سالہ مریض کی موت کے معاملے میں ورثا نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرلیا۔ عدالت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام فریقین کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے۔
محمد خواجہ حسین کے علاج کے دوران مبینہ طبی غفلت پر شکایت درج کروائی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ کراچی کے اسٹیڈیم روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال میں علاج کے دوران ڈاکٹروں کی جانب سے سنگین غفلت برتی گئی، جس کے نتیجے میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔
متاثرہ خاندان نے اس معاملے پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ تاہم شکایت درج ہونے کے تقریباً ایک سال بعد کمیشن کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جس سے ورثا نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ شہری محمد عارف حسین نے بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور تمام حقائق کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
مدعی کی جانب سے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارروائی پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے وکلا حشام بن طاہر، ارتضیٰ حبیب اور زبیر احمد ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کمیشن کے فیصلے سے بظاہر ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت پر پردہ ڈالنے کا تاثر ملتا ہے۔
وکلا نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ایک ریگولیٹری ادارہ ہے، تاہم اس کیس میں کلینیکل ایکسپرٹ کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے مختلف فیصلہ دیا گیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل چھان بین کرائی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہوسکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔
عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔
نجی اسپتال میں مبینہ غفلت سے مریض کی موت، ورثا عدالت پہنچ گئے
