وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے بات آگے بڑھ سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن کے خط کا جواب دیں گے، آج اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ان کی اور رانا ثناء اللہ کی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات ہوئی، جس میں اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی مریض کو ہسپتال منتقل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ڈاکٹر کرتا ہے، سیاسی مطالبوں کی بنیاد پر کسی شخص کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے باعث جیل میں ہیں، حکومت کی خواہش پر نہیں۔ ان کی رہائی بھی قانونی اور عدالتی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سیاسی مخالفت اپنی جگہ، بانی پی ٹی آئی سے حکومت کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں بھی کوئی حقیقت نہیں،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دی گئی دعوت آج بھی قائم ہے، اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لے،ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے بھی عدالتی طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ وزیراعظم اور اپوزیشن کی ملاقات اسمبلی کے کانسٹیٹیوشن روم میں کرانے کی تجویز دی گئی ہے،وزیراعظم کی اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت برقرار ہے، پی ٹی آئی قیادت بانی سے جو ملاقات چاہتی ہے اس پر بیٹھ کر بات کریں گے، بانی پی ٹی آئی کو تنگ کرنا یہ تکلیف دینا ن لیگ اور ہماری قیادت کی نیت نہیں، حکومت کے پاس نئے صوبوں سے متعلق ابھی کوئی تجویز نہیں
