96 لاکھ کہاں لگے؟ نالا بپھرا تو سوال اٹھا طارق ضیا کے دور کی انکوائری رکی کیوں، کس کی پشت پناہی؟
عوام ڈوبتے رہے، جواب دہی کہاں؟ طارق ضیا کے دور کے فنڈز کا حساب دو، سانحے سے پہلے انکوائری کرو
گوجرخان (قمرشہزاد) گزشتہ شب کے دو موسلا دھار بارشی سپیلوں نے گوجرخان کے مرکزی نالے کی صفائی کے دعووں کا پول کھول دیا۔ نالا بپھرا تو ملحقہ آبادیوں میں کئی کئی فٹ پانی گھس گیا، گھروں کا قیمتی سامان برباد ہوگیا جبکہ نالے کا گندا پانی شہریوں کی بورنگز میں داخل ہونے سے صاف پانی کے ذخائر بھی آلودہ ہونے لگے۔ذرائع و شہری حلقوں کے مطابق سابق سی او بلدیہ طارق ضیا کے دور میں مرکزی نالے کی صفائی پر 96 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، مگر دو بارشوں نے اس صفائی کا عملی نتیجہ سب کے سامنے رکھ دیا۔ شہریوں نے دوٹوک سوال اٹھایا ہے کہ اگر نالا واقعی صاف کیا گیا تھا تو معمول کی شدید بارش میں ہی یہ بپھر کر آبادیوں کو ڈبونے پر کیوں اتر آیا؟نالے کی صفائی کے دوران بھی ناقص صفائی اور فوٹو سیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مسلسل آوازیں اٹھتی رہیں اور معاملہ میڈیا کی زینت بنتا رہا، مگر تاحال نہ مؤثر انکوائری ہوئی، نہ کمیٹی بنی اور نہ ہی اخراجات کا شفاف آڈٹ سامنے آیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خاموشی نے سوالات ختم نہیں کیے بلکہ مزید گہرے کر دیے ہیں۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سابق سی او بلدیہ طارق ضیا اتنے بااثر ہیں کہ کروڑوں نہیں تو لاکھوں کے سرکاری اخراجات بھی جواب دہی سے بالاتر ہیں، یا کوئی بااثر حلقہ ان کے پیچھے کھڑا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر 96 لاکھ روپے کی صفائی، اس کے معیار اور نگرانی کا حساب لینے میں تاخیر کیوں؟
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں داخل ہونے والے گندے پانی سے ہونے والے نقصانات کا ذمہ دار کون ہے؟ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خرچ ہونے والے پیسے کا حساب کون دے گا اور ناقص منصوبہ بندی یا ناقص صفائی سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ازالہ کون کرے گا؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق سی او بلدیہ طارق ضیا کے دورِ تعیناتی کے تمام ترقیاتی فنڈز، منصوبوں اور بالخصوص نالوں کی صفائی کے اخراجات کا فوری، غیرجانبدارانہ اور خصوصی آڈٹ کرایا جائے، حقائق سامنے لانے کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانہ کسی افسر یا ٹھیکیدار کی جاگیر نہیں، عوام کی امانت ہے، اس امانت کا حساب دینا ہوگا۔ حکام کو کسی بڑے سانحے کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی حرکت میں آنا ہوگا، کیونکہ دو بارشوں نے صرف نالا نہیں بپھیر ا—سرکاری صفائی کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
