لندن: برطانیہ میں روزگار کی مارکیٹ کے لیے تشویشناک صورتحال سامنے آگئی، جہاں ملازمتوں کی خالی آسامیوں کی تعداد پانچ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
برطانوی دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق جون تک تین ماہ کے دوران ملک میں دستیاب ملازمتوں کی آسامیوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 ہزار کم رہی۔ کورونا وبا کے دوران اپریل 2021 کے بعد پہلی مرتبہ خالی آسامیوں کی تعداد اتنی کم ہوئی ہے۔او این ایس کی ڈائریکٹر اقتصادی اعدادوشمار لز میک کیون کے مطابق چھوٹے کاروباروں نے ملازمین کی جگہ نئے افراد بھرتی کرنے کا عمل روک دیا ہے، جس کی بڑی وجوہات روزگار سے متعلق بڑھتے اخراجات اور عمومی کاروباری لاگت میں اضافہ ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق ملازمتوں میں سب سے نمایاں کمی پیشہ ورانہ، سائنسی اور تکنیکی شعبوں کے علاوہ صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں ریکارڈ کی گئی۔ ایک سے 9 ملازمین والے چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور ان میں خالی آسامیوں کی تعداد 8 ہزار کم ہوئی۔
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ان انگلینڈ اینڈ ویلز کے اقتصادی امور کے ڈائریکٹر سورین تھیرو نے صورتحال کو روزگار کی مارکیٹ کے لیے ’’خطرے کی گھنٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے روزگار اور توانائی کے اخراجات کے باعث لیبر کی طلب میں کمی آرہی ہے، جبکہ آٹومیشن بھی ابتدائی سطح کی بعض ملازمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں برطانیہ کی جاب مارکیٹ کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ توانائی کے بڑھتے اخراجات اور اکتوبر کے بجٹ میں ممکنہ ٹیکس اضافوں سے کاروباری اداروں کی نئی بھرتیوں میں دلچسپی مزید کم ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب ملک میں بے روزگاری کی شرح 4.9 فیصد پر برقرار رہی۔
اواین ایس کے اعدادوشمار کے مطابق نجی اور سرکاری شعبوں میں اجرتوں میں اضافے کا فرق بھی مزید بڑھ گیا ہے۔ نجی شعبے میں سالانہ اجرتوں میں اضافے کی شرح کم ہو کر 2.8 فیصد رہ گئی، جبکہ سرکاری شعبے کے ملازمین کی اجرتوں میں سالانہ بنیاد پر 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔نجی شعبے میں اجرتوں میں اضافے کی شرح پہلی مرتبہ 2020 کے بعد 3 فیصد سے نیچے آئی ہے۔ماہرین کے مطابق اجرتوں میں سست رفتار اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔ جولائی میں افراطِ زر کی شرح 2.9 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اجرتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور لوگوں کی حقیقی آمدنی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں اجرتوں کی سست رفتار ترقی بینک آف انگلینڈ کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلہ سازی میں اہم عنصر ثابت ہوسکتی ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت آئندہ ماہ شرح سود میں کسی تبدیلی نہ ہونے کے امکانات تقریباً 73 فیصد قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ رواں سال کے باقی عرصے میں شرح سود بڑھائے جانے کی توقع بھی نہیں کی جا رہی۔
