Baaghi TV

میرا پیسہ، ہیکر کی جیب میں،تحریر:سیدہ شبانہ رضوی

ہم سمجھتے تھے کہ چور گھر کی دیوار پھلانگ کر آتا ہے، تالہ توڑتا ہے، الماری کھولتا ہے اور مال لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ مگر ڈیجیٹل دور نے چوری کا پورا فلسفہ ہی بدل دیا ہے۔ اب چور نہ دیوار پھلانگتا ہے، نہ نقاب پہنتا ہے، نہ جوتے کے نشان چھوڑتا ہے۔ بس آپ کے موبائل میں داخل ہوتا ہے اور پھر آپ ہی کے نام سے آپ کے اپنوں سے پیسے مانگ لیتا ہے۔

حال ہی میں ایک جاننے والی کی بیٹی کا موبائل ہیک ہوا۔ ہیکر نے صرف اس کے بینک اکاؤنٹ سے بڑی رقم نہیں نکالی بلکہ اس کے واٹس ایپ سے اس کی والدہ سمیت کئی لوگوں کو ایسے پیغامات بھیجے جیسے واقعی بیٹی ہی مدد مانگ رہی ہو۔ اندازِ گفتگو وہی، نمبر وہی، پروفائل وہی… فرق صرف اتنا تھا کہ دوسری طرف بیٹی نہیں، ہیکر بیٹھا تھا۔
ایک دوسری دوست کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس کا واٹس ایپ ہیک ہوا تو اس کے کانٹیکٹس کو پیغامات جانے لگے۔ ایک جاننے والی نے صرف نمبر دیکھا اور بغیر فون کیے، بغیر تصدیق کیے، پچاس ہزار روپے منتقل کر دیے۔
پتا اس وقت چلا جب پیسے بھی جا چکے تھے اور حقیقت بھی سامنے آ گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں عام شہری کیا کرے؟
سب سے دلچسپ مرحلہ تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ بینک کو فراڈ کی اطلاع دینے کے لیے فون کرتے ہیں۔
"اردو کے لیے ایک دبائیں۔”
"انگریزی کے لیے دو دبائیں۔”
"بینکنگ کے لیے تین دبائیں۔”
"فراڈ کے لیے چار دبائیں۔”

پھر شاید ایک لمبی سی موسیقی سنائی دیتی ہے اور آپ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ہیکر نے چند منٹ میں اکاؤنٹ صاف کر دیا، مگر ہم ابھی تک صحیح بٹن تلاش کر رہے ہیں!
صبح برانچ جائیں تو جواب ملتا ہے:
"ہمارے پاس محدود معلومات ہیں، آپ ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔”
یعنی پیسہ ہیکر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے لیے بالکل تیز رفتار ہے، مگر اس کا سراغ لگانے کے لیے نظام کو اجازت، وقت، فارم، ہیلپ لائن اور شاید ایک عدد معجزے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔

اور یہاں ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔
حکومت اگر آپ سے ٹیکس وصول کرنا چاہے تو یقین کریں، وہ آپ کے حلق میں ہاتھ ڈال کر بھی اپنا حصہ نکال لے گی۔ آپ کی آمدنی، جائیداد، گاڑی، کاروبار، بینک اکاؤنٹ—کسی چیز سے بے خبر نہیں ہوگی۔
لیکن خدا نہ کرے کسی ہیکر نے آپ کے اکاؤنٹ پر ہاتھ صاف کر دیا تو اچانک سب کہیں گے:
"جناب! پہلے آپ ثابت کریں کہ فراڈ ہوا ہے۔”
حکومت کو ٹیکس کے لیے آپ کا پورا ڈیٹا چاہیے، مگر فراڈ ہونے کے بعد شہری کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی رقم آخر گئی کہاں!
یہ بھی کمال کا ڈیجیٹل نظام ہے۔

رقم جمع کرواتے وقت شناخت ضروری، رقم نکلواتے وقت تصدیق ضروری، موبائل بینکنگ کے لیے OTP ضروری، اکاؤنٹ کھولنے کے لیے بائیومیٹرک ضروری… مگر جب ہیکر تمام حفاظتی دروازوں سے گزر جائے تو شہری کو آخر میں ایک ہی مشورہ ملتا ہے:
"آئندہ احتیاط کیجیے گا۔”
واہ جناب!
یعنی گھر لوٹ جائے تو ہمیں یہ سمجھایا جائے کہ آئندہ دروازہ مضبوط رکھنا تھا۔

یہ بات درست ہے کہ شہریوں کو بھی احتیاط کرنا ہوگی۔ کسی کو OTP نہیں دینا، مشکوک لنک نہیں کھولنا، غیر ضروری ایپس انسٹال نہیں کرنی، بینکنگ ایپ کا پاس ورڈ مضبوط رکھنا اور ہر مشکوک ٹرانزیکشن پر فوراً بینک سے رابطہ کرنا ہوگا۔
واٹس ایپ پر کوئی قریبی شخص پیسے مانگے تو صرف نمبر دیکھ کر رقم منتقل نہ کریں۔ ایک فون کال کرلیں۔ ویڈیو کال کرلیں۔ کوئی ذاتی سوال پوچھ لیں۔ چند منٹ کی تصدیق پچاس ہزار کے نقصان سے کہیں سستی ہے۔
لیکن صرف شہریوں کو ذمہ دار قرار دے کر حکومت، بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور سائبر کرائم کے اداروں کو بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سائبر فراڈ کی شکایت کے لیے ایک فوری، آسان اور مؤثر نظام ہو؛ مشکوک رقم کو فوری طور پر روکنے یا فریز کرنے کا طریقہ ہو؛ متاثرہ شہری کو واضح معلومات دی جائیں اور شکایت کے بعد اسے ایک ادارے سے دوسرے ادارے کی طرف فٹبال کی طرح نہ اچھالا جائے۔
کیونکہ سائبر کرائم میں وقت سب سے اہم چیز ہے۔
ہیکر کے پاس رفتار ہے، تو نظام کے پاس اس سے زیادہ رفتار ہونی چاہیے۔
اور جہاں تک ہماری اپنی ذمہ داری ہے تو شاید اب ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ڈیجیٹل دور میں صرف گھر کا دروازہ بند کرنا کافی نہیں۔
اپنا موبائل، اپنا بینک اکاؤنٹ، اپنی شناخت، اپنے پاس ورڈ اور اپنے بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
کیونکہ آج چور دروازے سے نہیں، لنک سے آتا ہے۔
آج نقلی چابی نہیں، OTP مانگا جاتا ہے۔
آج چور بندوق نہیں دکھاتا، "امی، فوری پیسے بھیج دیں” کا میسج بھیجتا ہے۔
اور اگر آپ نے تصدیق نہ کی تو اگلی خبر یہی ہوگی:
"میرا پیسہ، ہیکر کی جیب میں!”

آخر میں حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے بھی ایک عاجزانہ سا پیغام ہے:
عوام سے ٹیکس ضرور لیجیے، قانون بھی نافذ کیجیے، ڈیجیٹل بینکنگ بھی بڑھائیے، مگر جب شہری سائبر فراڈ کا شکار ہو تو اسے صرف یہ کہہ کر نہ چھوڑ دیجیے کہ "اپنی حفاظت خود کریں۔”
ریاست کا کام صرف یہ نہیں کہ شہری سے ٹیکس وصول کرے؛ ریاست کا فرض یہ بھی ہے کہ شہری کے جان و مال، شناخت اور ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام فراہم کرے۔
ورنہ پھر عوام کو بھی شاید یہی کہنا پڑے گا:
اپنی جان کی حفاظت خود کرو،
اپنے مال کی حفاظت خود کرو،
اپنے موبائل کی حفاظت خود کرو،
اپنے اکاؤنٹ کی حفاظت خود کرو،
اور ہیکر سے بچنے کے لیے دعا بھی خود کرو!
بقول شخصے:
"جاگدے رہنا، ساڈے تے نہ دینا!”
کیونکہ زمانہ ڈیجیٹل ہو چکا ہے،
چور آن لائن ہیں، اور ہماری نیند ابھی تک آف لائن!

More posts