Baaghi TV

پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کیا ہونگے؟

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ 2026 کی منظوری کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور اس سے متعلق انتظامی امور کا قانونی فریم ورک طے ہوگیا ہے۔

بل کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو تینوں مسلح افواج کے درمیان باہمی رابطے، ہم آہنگی اور ایسے اہم و اسٹریٹجک معاملات کی نگرانی کی ذمہ داری حاصل ہوگی جن کے تینوں افواج اور پاکستان کی قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوتے ہوں۔

چیف آف ڈیفنس فورسز، آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مقرر عہدیداروں کے علاوہ، مسلح افواج کے کسی بھی اہلکار کو ریٹائر یا ملازمت سے فارغ کرنے، برطرف کرنے، استعفیٰ منظور یا مسترد کرنے اور ملازمت میں برقرار رکھنے کا اختیار رکھیں گے۔ انہیں ریٹائرمنٹ کی عمر یا مدتِ ملازمت میں رعایت دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مقرر عہدیداروں میں چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف نیول اسٹاف اور چیف آف ایئر اسٹاف شامل ہیں، جبکہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا نیا منصب متعارف کرایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت چیف آف ڈیفنس فورسز کو جو اضافی ذمہ داریاں یا اختیارات سونپے گی، وہ انہیں بھی استعمال کرسکیں گے۔

ایکٹ کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو ہدایات اور احکامات جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ وہ ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط پر مؤثر عملدرآمد کیلئے وقتاً فوقتاً ضروری ہدایات اور احکامات جاری کرسکیں گے۔

ایکٹ کے تحت قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہوگا، جو قانون کے احکامات کو مؤثر بنانے کیلئے وقتاً فوقتاً ضروری قواعد و ضوابط وضع کرسکے گی۔

More posts