قوموں کی تقدیر جس سیاست سے لکھی جاتی ہے اس کا پہلا قطرہ ایک ماں کی گود سے پھٹتا ہے۔ ماں تہذیب کا چشمہ، مہر، بی بی آخری پناہگاہ، اور وہ نسلوں کی معمار ہے۔ اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی اور دنیا نے ماں درگاہ "کا خطاب دیا۔ مگر افسوس! جب وہ مقدس منصب ایسے نازک کندھوں پر رکھ دیا جائے جو ابھی چن کا بوجھ بھی نہ اٹھا سکیں ہوں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پاکستان کے دیہات، بچی بیٹیوں اور غرور کے اظہریوں میں آج بھی ہزاروں کہانیاں وقت سے پہلے مسل دی جاتی ہیں۔ 13،14،15 سال کی عمر – عمر تعلب، قلم اور کھیل کی عمر ہے۔ مگر غربت کی زنجیر، جہالت کا اندھیر اور "جلدی رخصت کرو” کی فرسودہ سوچ ان معصوموں کی کہانیوں میں پھندورا ڈال دیتی ہے۔ وہ خود بھی "بیٹی” کے لفظ کی شناخت سے آشنا نہیں ہوتیں کہ ان سے "ماں” ہونے کا تقاضا کر لیا جاتا ہے۔ جس عمر میں خواب اور اسکول گھنٹے ہونا چاہیے، اس عمر میں چولہے کی بھٹی اور رات بھر کی جاگ سے اس کی ہنسی چھین لی جاتی ہے، اس کے خواب چھلنی جاتے ہیں۔ ایک ان پڑھ، ناتواں، ناپختہ ماں قوم کو کیا دے گی۔ جب ماں خود جہالت ہو تو بچے کو قلم کیسے تھمائے گی؟ اس طرح ایک فرد نہیں پوری نسل کی پسماندگی بن جاتا ہے۔ اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں جیسا معاشی تنگی وغیرہ غریب باپ بیٹی کو "بوجھ” سمجھ کر جلدی فارغ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ جہاں اسکول نہیں وہاں شعور بھی نہیں۔ ساہی روایت جیسی کہ "ہماری برادری میں ایسے ہی ہوتا ہے”۔ قانون کی کمزوری بھی کسی حد تک ذمہ دار ہوتی ہے اور پھر ٹوٹی پھوٹی Child Marriage Restraint Act میں چھاوہ کی گنجائش کیسے نکالی جائے۔ اس نظام کا مداوا ممکن ہے اگر ہم مل کر عہد کریں کہ تعلیم عام کریں۔ بیٹی کو اسکول بھیجنا عبادت ہے۔ ہر بیٹی لکھی ماں 10 نسلیں سنوار دیتی ہے۔ احتیاطی طور پر شعور بیدار کریں، منبر، میڈیا اور استاد یہ پیغام دیں کہ کم عمری میں شادی جرم ہے، ظلم ہے۔ قانون نافذ کریں 18 سال سے کم عمر کی شادی سخت سزا دی جائے۔ معاشی مدد کے لیے اعلیٰ اقدامات کو تیزی دی جائے، بیٹی کو بوجھ نہیں، سرمایہ اور رحمت سمجھا جائے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جس نے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا”۔ تو کیا ہم اس بشارت کو ٹھکرا کر بیٹیوں کو کچن تک محدود دیں گے؟ پاکستان کی کم سن مائیں ہماری اجتماعی شرمندگی ہیں۔ یاد رکھیں: "جو قوم بیٹیوں کو وقت سے پہلے مسل دیتی ہے، اس کے گلشن کبھی نہیں مہکتے”۔ آئیں ہم مل کر بیٹیوں کواس کا بچپن واپس دیں۔ کیونکہ ماں اگر کھو پھول ہو تو نسل گلستان ہوتی ہے۔
"میں لفظوں کی سودا گر نہیں، میں زخموں کی ترجمان ہوں۔”
