نعت رسول ِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ،
آنکھ کھلتے ہی جو دربار میں آجاتے ہیں
قریہ مدحت سرکار میں آجاتے ہیں
ہم جو بکنے کو ہوں تیار تو آقا بولیں
ہم خریدار ہیں بازار میں آجاتے ہیں
ُاُن کو سوچوں تو تخیل بھی مہک اٹھتا ہے
جتنے اشعار ہیں انوار میں آجاتے ہیں
اپنے بستر پہ سلاتے ہیں علی مولا کو
لے کے صدیق کو پھر غار میں آجاتے ہیں
جن کے صدقے کی تو کھاتی ہے یہ دنیا کھانے
فاقے اُن کے بھی تو گھر بار میں آجاتے ہیں
اُن کی پلکوں کے اشاروں سے صحابہ سارے
ہاتھ باندھے ہوئے پرکار میں آجاتے ہیں
لے کے جبریل چلے ساتھ انہیں سوئے الہ
جتنے سیارے ہیں رفتار میں آجاتے ہیں
اُن کی سنت کو جو چہرے پہ سجاتے ہیں زبیر
بن کے اعمال یوں اطوار میں آ جاتے ہیں
زبیر احمد
