Baaghi TV

عاجزی ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

انسان کی فطرت میں آرزو، تمنا اور خواہش کا عنصر شروع دن سے شامل ہے۔ وہ ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ حالات و واقعات بالکل اس کی مرضی، منشا اور چاہت کے مطابق ڈھل جائیں۔ ایسا ہو جائے، ویسا ہو جائے کی یہ تسلسل سے جاری خواہشات دراصل انسان کے وجود کا حصہ ہیں۔ لیکن اس مستقبلی فکر اور مسلسل منصوبہ بندی میں اکثر انسان ایک بنیادی اور ابدی حقیقت کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ اس کائنات کا ایک ہی حقیقی خالق، مالک اور مدبر ہے اور تمام تر فیصلے صرف اور صرف اسی ذاتِ باری تعالیٰ کے کے اختیار میں ہیں۔

جب انسان دنیاوی وسائل، دولت، اقتدار، علم یا قابلیت کے نشے میں دھت ہو جاتا ہے تو اس کے اندر تکبر جنم لیتا ہے۔ وہ خود کو اپنے حالات کا مختارِ مطلق سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ اس کی تدبیر ہی حتمی تقدیر ہے اور جو کچھ وہ چاہے گا، وہی ہو کر رہے گا۔ یہ سوچ دراصل انسان کو اپنی اصل حد سے باہر نکال کر خدائی کا دعویٰ کرنے کی غیر محسوس راہ پر ڈال دیتی ہے۔ انسان خدا تو نہیں بن سکتا لیکن جب وہ اپنے فیصلوں کو لاینحل، اپنی رائے کو برتر اور اپنی طاقت کو لامحدود سمجھنے لگتا ہے تو وہ عملًا خدائی کا شائبہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

تاریخِ انسانی ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے اقتدار اور اختیارات کے زعم میں خدائی کا دعویٰ کیا یا اپنے فیصلوں کو ربانی حکم کی طرح مسلط کرنا چاہا۔ فرعون، نمرود اور شداد جیسے نام اسی غرور اور فرعونیت کی علامت ہیں۔ ان کا انجام اس بات کی واضح شہادت ہے کہ جب بھی کوئی بونا انسان خدا بننے کے درجے پر فائز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو قدرت کی طرف سے اسے بڑی زور دار اور عبرتناک ٹھوکر لگتی ہے۔ یہ ٹھوکر صرف جسمانی یا ظاہری شکست نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس کے غرور، اس کی تدبیروں اور اس کے پندارِ عقل کا غرور خاک میں ملا دیتی ہے۔

حقائق کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو انسان کا اپنا وجود اور اس کی تدبیریں انتہائی محدود ہیں۔ انسان معمولی سا قدم اٹھانے سے پہلے بھی اگلے لمحے کے سانس پر اختیار نہیں رکھتا۔ انسان مہینوں اور سالوں کے منصوبے بناتا ہے، لیکن ایک ناگہانی آفت، ایک بیماری یا حالات کا معمولی رُخ اس کے تمام تر نقشے بدل کر رکھ دیتا ہے۔ قرآن پاک میں بھی ارشاد ہے کہ انہوں نے (اپنی) تدبیر کی اور اللہ نے بھی (اپنی) تدبیر کی اور اللہ سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی تمام تر خواہشات اور صلاحیتیں ربِ کائنات کے ایک فیصلے کی محتاج ہیں۔

اہلیت اور کامیابی کا حقیقی معیار یہ نہیں کہ انسان اپنی خواہشات کو زبردستی نافذ کرے بلکہ اہل اور دانشمند وہ انسان ہے جو اپنے عجز کو پہچانے۔ جو شخص یہ سمجھ جاتا ہے کہ کائنات میں حکم صرف ایک رب کا چلتا ہے، وہ اپنی تمام تر کوششیں کرنے کے بعد نتیجہ خدا کی رضا پر چھوڑ دیتا ہے۔ اسی کا نام تسلیم و رضا ہے۔ تسلیم اور رضا کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان کوشش کرنا چھوڑ دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی حد تک محنت اور تدبیر کرے لیکن نتیجہ اور فیصلے کا مکمل اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دے۔

جب انسان اس نقطے کو بھول کر ہر معاملے میں اپنی مرضی چلاتا ہے اور رب کے فیصلوں سے تصادم کی راہ اختیار کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے لیے ذلت اور ناکامی کا راستہ منتخب کرتا ہے۔ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے اور یہ کائنات کا ایک اٹل قانون ہے۔ انسان کی انا کا غبارہ جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے، اس کے پھٹنے کا دھماکہ اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔ جب انسان کو اپنی بے بسی کا احساس ہوتا ہے اور وہ تدبیروں کے ٹوٹنے پر زمین پر گرتا ہے، تو یہی وہ زور کی ٹھوکر ہوتی ہے جو اسے واپس اس کی اصل حقیقت یعنی عاجز اور محتاج بندہ ہونے کا احساس دلاتی ہے۔

انسان کا حسن اس کی بندگی اور عاجزی میں ہے۔ کائنات کا نظام انسانی خواہشات پر نہیں بلکہ الٰہی فیصلوں پر چلتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ایسا ہو جائے یا ویسا ہو جائے کی لامتناہی اور ضدی خواہشات کے بجائے جیسا رب چاہے ویسا ہو جائے کا طرزِ فکر اختیار کرے۔ خدائی کا زعم اور فیصلوں پر مطلق اختیار کا دعویٰ صرف تباہی اور سکتہ کر دینے والی ٹھوکر کا سبب بنتا ہے۔ انسان اسی وقت اہل اور کامیاب کہلاتا ہے جب وہ خدا کے ایک ہونے اور اس کے فیصلوں کے برتر ہونے کو دل و جان سے تسلیم کر لے اور اپنے ہر قدم میں عاجزی کو اپنا شعار بنائے۔

More posts