پاکستانی سیاست کا المیہ شاید یہ نہیں کہ یہاں سیاست بہت زیادہ ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ عوامی سیاست بہت کم ہے۔ ہم آج بھی نواز شریف اور عمران خان کے درمیان اس طرح تقسیم ہیں جیسے ملک کی تمام تاریخ، تمام مسائل اور تمام سیاسی شعور انہی دو ناموں کے درمیان قید ہو۔
کسی کے لیے نواز شریف ہر مسئلے کا ذمہ دار ہے اور کسی کے لیے عمران خان۔ ایک دوسرے کے سیاسی مخالف کو برا ثابت کرنے میں ہم اتنے مصروف ہیں کہ یہ سوال پوچھنا ہی بھول گئے ہیں کہ آخر اس ملک میں سیاست کا انجام ہمیشہ چند شخصیات، چند خاندانوں اور چند طاقتور اداروں کے گرد ہی کیوں گھومتا ہے؟
ذرا تاریخ کی طرف واپس چلتے ہیں۔
نواز شریف جیل میں گئے تو کیا عمران خان کی مرضی سے گئے تھے؟ عمران خان جیل میں گئے تو کیا نواز شریف کی مرضی سے گئے تھے؟ دونوں کے سیاسی سفر، عروج اور زوال میں ایسے عوامل شامل رہے ہیں جو کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کی مرضی سے کہیں زیادہ بڑے تھے۔ مگر عوام کو ہمیشہ یہی دکھایا گیا کہ اصل مسئلہ ایک سیاست دان ہے اور حل دوسرا سیاست دان۔
ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو بھی ایک مخصوص سیاسی عینک سے دیکھا۔ بعض لوگ اسے صرف ایک شخص یا ایک حکومت کا فیصلہ سمجھ کر آگے بڑھ گئے، بعض نے مذہبی و سیاسی قوتوں کے کردار کو مرکز بنایا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی تک پہنچانے والے پورے سیاسی و ریاستی نظام کا احتساب کبھی مکمل طور پر کیوں نہیں ہوا؟
فاطمہ جناح کا معاملہ بھی ہماری اجتماعی سیاسی یادداشت کا ایک اہم باب ہے۔ قائداعظم کی بہن، ایک مقبول سیاسی شخصیت، اور پھر صدارتی انتخاب میں ایک ایسا نتیجہ جس نے پاکستان کی جمہوری تاریخ پر ہمیشہ کے لیے سوالیہ نشان چھوڑ دیا۔ ہم نے اس واقعے کو بھی اپنی اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق یاد رکھا، مگر اس سوال پر کم ہی بات کی کہ ایک نئی مملکت میں عوامی مینڈیٹ، سیاسی آزادی اور ریاستی اثر و رسوخ کے درمیان تعلق کیا تھا؟
اور پھر قائداعظم محمد علی جناح۔
وہ شخص جس نے پاکستان بنایا، اپنی زندگی کے آخری ایام میں بیماری سے لڑتا رہا، اور جس کی ایمبولینس راستے میں خراب ہو گئی۔ یہ واقعہ محض ایک انتظامی ناکامی نہیں؛ یہ اس ریاست کی ابتدائی کمزوریوں کی علامت بھی ہے جس نے اپنے بانی کی زندگی کے آخری سفر تک انہیں وہ سہولت نہ دی جس کے وہ مستحق تھے۔
لیکن ہم آج بھی تاریخ سے سبق لینے کے بجائے تاریخ کو اپنے پسندیدہ سیاست دان کے حق اور مخالف کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
ہمیں نواز شریف چاہیے تاکہ عمران خان کو برا ثابت کیا جا سکے۔
ہمیں عمران خان چاہیے تاکہ نواز شریف کو برا ثابت کیا جا سکے۔
ہمیں بھٹو چاہیے تاکہ کسی اور کو ظالم ثابت کیا جا سکے۔
ہمیں کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے سوالات سے بچ سکیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عوامی سیاست کا وجود ہمیشہ کمزور رہا ہے۔
عوام ووٹ دیتے ہیں، لیکن سیاسی بیانیہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں، مگر فیصلوں کی میز تک ان کی آواز اکثر نہیں پہنچتی۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور روزگار کے مسائل میں پستے ہیں، جبکہ ہماری سیاسی گفتگو اب بھی اس سوال پر ختم ہو جاتی ہے کہ "آپ عمران خان کے ساتھ ہیں یا نواز شریف کے؟”
یہ سوال ہی شاید ہماری سب سے بڑی سیاسی ناکامی ہے۔
ایک زندہ جمہوریت میں سوال یہ ہونا چاہیے کہ آپ جمہوریت کے ساتھ ہیں یا غیر جمہوری مداخلت کے خلاف؟
آپ آئین کی بالادستی کے ساتھ ہیں یا طاقت کے بے لگام استعمال کے خلاف؟
آپ اداروں کی جواب دہی چاہتے ہیں یا شخصیات کی اندھی حمایت؟
آپ عوام کے معاشی اور سماجی حقوق کی سیاست چاہتے ہیں یا صرف اقتدار کی تبدیلی؟
ہم نے سیاست کو شخصیت پرستی بنا دیا اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ملک تبدیل کیوں نہیں ہوتا۔
شاید ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ صرف نواز شریف نہیں، صرف عمران خان نہیں، صرف بھٹو نہیں۔ مسئلہ اس سیاسی کلچر کا ہے جس میں شخصیات بدلتی رہتی ہیں مگر نظام کے بنیادی سوال وہیں کھڑے رہتے ہیں۔
ہم ہر چند سال بعد ایک نیا نجات دہندہ تلاش کرتے ہیں، اسے اپنا مسیحا بناتے ہیں، اس کے مخالف کو ملک کا دشمن قرار دیتے ہیں، پھر کچھ عرصے بعد مایوس ہو کر اگلے نجات دہندہ کا انتظار شروع کر دیتے ہیں۔
یہ سیاست نہیں، سیاسی جذبات کا چکر ہے۔
شاید اسی لیے آج خاموش رہنا بعض اوقات بزدلی نہیں بلکہ شعور محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ہر سوال کا جواب کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت میں دیا جائے، جب تاریخ کو بھی جماعتی عینک سے پڑھا جائے، جب اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے اور جب عوامی مسائل شخصیات کے نعروں کے نیچے دب جائیں تو بولنے سے زیادہ ضروری شاید یہ ہے کہ کچھ دیر رک کر سوچا جائے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں نواز شریف چاہیے، عمران خان چاہیے، یا ایک ایسا پاکستان جہاں کسی ایک شخص کے آنے یا جانے سے عوام کی قسمت نہ بدلے۔
کیونکہ اصل جمہوریت وہ دن ہوگا جب پاکستان کا عام شہری کسی سیاسی شخصیت کا کارکن ہونے کے بجائے اپنے حق کا شہری بن کر کھڑا ہوگا۔
اور شاید اس دن ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔
