عمران خان کے ہسپتال چیک اپ کے بعد ایک بار پھر گولڈ سمتھ پلان 2 متحرک ہوگیا ہے اور عمران خان کے سابق سالا صاحب برطانوی حکومت سے فوری طور پر پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں جو کسی صورت درست نہیں بلکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے
مسٹر زیک گولڈ اسمتھ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔ ان کی یہ سرگرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کا طبی معائنہ ہوچکا ہے اور ان کی ہمشیرہ کا موقف بھی سامنے آچکا ہے،عمران خان کی بہن کا کہنا تھا کہ عمران خان بالکل تندرست ہیں،پمز میں معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے،
عمران خان کے ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد ایک بار پھر گولڈ اسمتھ کی جانب سے برطانوی حکومت سے پاکستان کے خلاف کارروائی اور دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو کسی صورت درست نہیں، زیک گولڈ اسمتھ کو پاکستان پر لیکچر دینے سے قبل اپنے سیاسی مؤقف اور ممکنہ مفادات کے تضادات کی وضاحت کرنی چاہیے۔ عمران خان سے متعلق یک طرفہ دعووں کو بنیاد بنا کر برطانوی حکومت سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ سفارت کاری ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا معاملہ، بلکہ اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں سیاسی مداخلت قرار دیا جا سکتا ہے۔ گولڈ اسمتھ خاندان کی جانب سے برطانوی حکام کو خطوط لکھ کر پاکستان کے خلاف فضا بنانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ پاکستان کے معاملات کا فیصلہ پاکستانی عوام اور متعلقہ ادارے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔گولڈ اسمتھ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے سیاسی اور معاشی مسائل پر توجہ مرکوز کرے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔
