سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سزا یافتہ قیدی،بانی پی ٹی آئی کا ایک نجی اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے، اس کے ذاتی معالج اور اہل خانہ کی نگرانی میں طبی معائنہ اور علاج کیا جائے۔
عدالت کے حکم میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ قیدی کی سیکیورٹی اور حفاظت کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ عدالت نے سلمان اکرم راجا اور ڈاکٹرعظمیٰ سے تحریری ضمانتیں بھی حاصل کی تھیں کہ اسپتال کو سیاسی اجتماع گاہ نہیں بنایا جائے گا اور اس کے گرد کسی قسم کی امن و امان کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔اگرچہ عدالت کا یہ حکم آئین کے منافی تھا،سزا یافتہ قیدی کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہوتا ہے تاہم حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ جب اپیل منظور نہیں ہوئی تو حکومت نے مزید کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا اور عدالت کی جانب سے متعین کردہ اسپتال، شفا انٹرنیشنل، میں تمام سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات شروع کر دیے تاکہ قیدی کو وہاں منتقل کیا جا سکے۔
اس کے برعکس پی ٹی آئی رہنماؤں اور بعض صحافیوں نے سوشل میڈیا پر ایسا ماحول پیدا کیا اور اسپتال کے باہر کارکنوں کو جمع کیا۔ پی ٹی آئی کا اپنا سوشل میڈیا اس بات کا ثبوت ہے کہ راتوں رات اسپتال کو ایک سیاسی اجتماع گاہ میں تبدیل کر دیا گیا۔حکومت کے پاس یہ جواز موجود تھا کہ وہ اس صورتحال کو بنیاد بنا کر قیدی کو جیل میں ہی رکھنے اور کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دیتی، لیکن حکومت نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے حکم کا احترام کیا اور قیدی کو پمز اسپتال منتقل کر دیا۔
فرق صرف اسپتال کا تھا، جبکہ ماہر ڈاکٹروں کی وہی ٹیم، ذاتی معالج اور اہل خانہ قیدی کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کے عمل میں شامل رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات نے اپنے پہلے ہی ٹوئٹ میں واضح کر دیا تھا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث صرف اسپتال تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام کارروائی عدالت کے حکم کے مطابق کی گئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ توہینِ عدالت کا اتنا شور کیوں؟ کیا عدالت کی جانب سے ایسی بے بنیاد درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرنا اس بات کی علامت نہیں کہ عام فہم اور آئین، دونوں کو سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے؟اگر توہینِ عدالت ہوئی ہے تو پھر سلمان راجا اور ڈاکٹر عظمیٰ کے خلاف ہونی چاہیے، جنہوں نے کارکنوں کو جمع کیا اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کرکے عدالت کو دی گئی اپنی تحریری ضمانتوں کو بھی سرعام مسترد کر دیا۔
اسی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل نے خود بیان دیا کہ قیدی اپنی طبی حالت کے اعتبار سے 100 فیصد صحت مند ہے۔ ان کے مطابق آنکھوں کا علاج بھی بہترین طریقے سے کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، عدالت نے جس تشویش کا اظہار کیا تھا، وہ بے بنیاد ثابت ہوئی۔
اب جبکہ عدالت کے حکم پر عمل بھی ہو چکا اور تشویش کا ازالہ بھی ہو گیا، تو مزید کارروائی کے لیے درخواست کی سماعت کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟ مقصد طبی علاج فراہم کرنا تھا، نہ کہ قیدی کو نجی اسپتال میں قیام کی سہولت فراہم کرنا، اب کیا پی ٹی آئی این آر او تلاش کر رہی ہے؟
