۔یادیں ۔
گرمیوں کی شاموں میں
دوستوں کی باتوں سے
اک قرار ملتا تھا
موسموں کی شدت سے
بے نیاز سےھوکر
چائے کی پیالی میں
"اک طوفاں اٹھا دینا”
کچھ فضول باتوں پر
بولتے چلے جانا
بےسبب کبھی ھنسنا
اور ھنستے ھی چلے جانا
وائلن کی سُر پہ کوئی
گیت گنگنا لینا
کچھ ادھوری نظموں کے
اقتباس لکھ دینا
اور کبھی کسی خط میں
خود ساختہ سی سوچوں کی
روئیداد لکھ دینا
کچھ حسیں لمحوں کو
خود سے بھی چھپا کر اک
ڈائری میں رکھ دینا
کیسا پاگل پن تھا وہ
کیا حسیں ارادے تھے
دوستی کے وعدے تھے
سوچ کے پرندے جب
آسماں کو چھوتے تھے
ھم ھوا میں اڑتے تھے
کب زمیں ٹھکانہ تھی ۔۔؟؟
اب کہاں وہ یارانے۔۔۔
ساری محفلیں چھوٹیں
لوگ سارے بیگانے
اپنا اپنا رستہ ھے
اپنی اپنی منزل ھے
ھر کوئی مسافر ھے
ھمسفر ھے تنہائی
دوستی کے وعدے کیا
وہ حسیں ارادے کیا
آسماں کی خواھش تھی
اب زمیں پہ ٹکنا بھی
کس قدر کٹھن سا ھے
ایک ھی ڈگر پہ ھے
زندگی رواں دواں
صبح سے شام کر دینا
اور شام سے سحر کرنا
کچھ بھی تو نیا نہیں
موسموں سے ھیں گلے
دوستوں کا کیا کہیں
کوئی ملے یا نہ ملے
پھر بھی جب کسی لمحے
حبس بھری راتیں کوئی
داستاں سناتی ھیں
"وہ” گرمیوں کی شامیں تو
اب بھی یاد آتی ھیں۔۔”
زبیر احمد
