Baaghi TV

آخر کب تک ؟تحریر: ماہ جبین اظہر

اس زندگی میں کبھی کبھی ہمارے سامنے ایسے سوال آ جاتے ہیں جن کا جواب ہم چاہتے ہوئے بھی نہیں دے پاتے۔ ہم سوال کرتے ہیں، سوچتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں، مگر جواب کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اس لیے کہ ہمیں خاموش رہنے، سہنے اور برداشت کرنے کی عادت اس قدر ہو چکی ہے کہ ہمارے سامنے ہونے والی ناانصافی بھی ہمیں کچھ دیر کے افسوس کے بعد معمول کا حصہ محسوس ہونے لگتی ہے۔

ہم اپنے معاشرے میں ہونے والی بے انصافی اور بے حسی کو دیکھتے ہیں، افسوس کرتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟ اس پورے نظام کے سامنے ایک بندہ کیا ہی کر سکتا ہے؟ لیکن جب یہی سوال بار بار ہمارے سامنے آتا ہے تو دل خود سے پوچھتا ہے: آخر کب تک؟

آخر کب تک ہم اس نظام کا حصہ بن کر خاموش رہیں گے؟ آخر کب تک ناانصافی کو برداشت کرتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والی زیادتیوں پر صرف افسوس کرکے اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوتے رہیں گے؟

ہماری سب سے بڑی بے انصافی کا ایک مرکز ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے۔ تعلیم وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک بچہ اپنے خوابوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اس امید کے ساتھ پڑھاتے ہیں کہ وہ ایک دن تعلیم حاصل کرکے اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے کچھ بہتر کریں گے۔ لیکن جب یہی نظام بچے کی محنت، صلاحیت اور مستقبل کے ساتھ انصاف نہ کرے تو سوال اٹھتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو آخر دے کیا رہے ہیں؟

میٹرک کے امتحانات ہی کو دیکھ لیجیے۔ فرسٹ ٹائم اور سیکنڈ ٹائم کے پیپرز میں فرق ہو تو کیا ہم دونوں گروہوں کے طلبہ کا یکساں بنیاد پر مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اگر امتحان کا معیار اور مشکل مختلف ہو تو صرف نمبروں کی بنیاد پر کسی طالب علم کی قابلیت کا فیصلہ کس حد تک درست ہو سکتا ہے؟ ایک طالب علم کے لیے ایک نمبر بھی اس کے مستقبل کی سمت بدل سکتا ہے، پھر کیا ہمارے امتحانی نظام کو اس ذمہ داری کا احساس نہیں ہونا چاہیے؟
ہم نے بچوں کو نمبروں کی ایسی دوڑ میں شامل کر دیا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ بچہ یہ نہیں سوچتا کہ مجھے کیا سیکھنا ہے، میری صلاحیت کیا ہے اور میں اپنے علم کو زندگی میں کیسے استعمال کروں گا؛ اس کے ذہن میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے کہ مجھے کتنے نمبر ملیں گے؟

نمبروں کی یہ دوڑ صرف بچوں کو نہیں تھکاتی بلکہ والدین کو بھی ایک مسلسل دباؤ میں رکھتی ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کے لیے بچپن سے خواب دیکھتی ہے۔ ایک باپ اپنی استطاعت سے بڑھ کر محنت کرتا ہے تاکہ اس کا بچہ اچھی تعلیم حاصل کر سکے۔ والدین اپنی ضروریات کو پیچھے رکھ کر بچوں کی فیس، کتابوں اور تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ ان کی امید صرف اتنی ہوتی ہے کہ ان کا بچہ محنت کرے گا اور اسے اس محنت کا مناسب صلہ ملے گا۔

لیکن اگر ایک طالب علم پوری محنت سے امتحان دے اور پھر اسے محسوس ہو کہ اس کی محنت کا درست اندازہ ہی نہیں لگایا گیا تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ پیپر چیک کرنے والے کے لیے شاید وہ صرف ایک جوابی کاپی ہو، لیکن اس کا طالب علم کے لیے وہ مستقبل کا ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے۔ اس ایک کاپی کے اندر کئی مہینوں کی محنت، والدین کی امیدیں اور ایک بچے کے خواب شامل ہوتے ہیں۔

اسی لیے پیپر چیکنگ کا نظام انتہائی ذمہ داری اور شفافیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کسی طالب علم کو اپنے نمبروں پر اعتراض ہو تو ری چیکنگ کا نظام بھی ایسا ہونا چاہیے جس پر اسے مکمل اعتماد ہو۔ کسی استاد یا چیکر کی معمولی سی غفلت بھی طالب علم کے لیے بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امتحانی نظام میں شفافیت صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہے۔

تعلیم میں میرٹ بھی اسی انصاف کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اگر کسی طالب علم کو اس کی قابلیت اور محنت کے بجائے سفارش، رشوت یا تعلقات کی بنیاد پر پیچھے کر دیا جائے تو اس سے صرف ایک بچے کا حق نہیں چھینا جاتا بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ جو بچہ دن رات محنت کرتا ہے، اس کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کی محنت اسے آگے لے جائے گی۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جب ایک نوجوان بار بار ناانصافی دیکھتا ہے تو اس کے اندر نظام کے لیے اعتماد کیسے قائم رہے گا؟ مایوسی صرف ایک فرد کو نہیں توڑتی، یہ معاشرے کے مستقبل کو بھی کمزور کرتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ محنت کرو؛ ہمیں ایسا نظام بھی دینا ہوگا جہاں محنت کا حق ملے، میرٹ کا احترام ہو اور قابلیت کو پہچانا جائے۔ ہمیں ایسا تعلیمی ماحول چاہیے جہاں استاد صرف نمبر دینے والا نہ ہو بلکہ طالب علم کے مستقبل کا محافظ بھی سمجھا جائے۔

یہ کالم کسی ایک استاد، ادارے یا فرد کو الزام دینے کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام سے ایک سوال کرنے کے لیے ہے۔ سوال بہت سادہ ہے، مگر اس کا جواب ضروری ہے:
آخر کب تک؟
آخر کب تک ہمارے بچے نمبروں کی دوڑ میں اپنی اصل صلاحیت بھولتے رہیں گے؟ آخر کب تک امتحانی نظام میں موجود خامیوں کا بوجھ طالب علم اٹھاتے رہیں گے؟ آخر کب تک میرٹ سوالیہ نشان بنا رہے گا؟ آخر کب تک والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند رہیں گے؟
اب وقت صرف سوال کرنے کا نہیں، نظام کو بہتر بنانے کا ہے۔ کیونکہ ایک بچے کا مستقبل صرف اس کا اپنا مستقبل نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ ایک خاندان کی امید اور پورے معاشرے کا کل وابستہ ہوتا ہے۔
اور اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو کل شاید یہی سوال ہمارے سامنے پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ کھڑا ہوگا:
آخر کب تک؟

More posts