کاش اک روز آسماں جاتے
چلتے پھرتے بہ کہکشاں جاتے
دیکھتے عرش کی فسوں خیزی
اشک آنکھوں سے بس رواں جاتے
ہم تو دہلیز پر ہی غش ہوتے
آپ جب سامنے عیاں جاتے
نور کی آبشار کے سائے
جگمگاتے سے خاکداں جاتے
اب تو بس خال خال ہوں شاید
جو فلک پر تھے جاں فشاں جاتے
حسرتیں سر پٹکتی رہتی ہیں
کاش اس پار کامراں جاتے
آ گئے لوٹ کر یہیں صفدر
"آپ سے روٹھ کر کہاں جاتے”
