Baaghi TV

گھر واپس آ جاو،تحریر :سید ساجد علی شاہ

ملک کے موجودہ حالات کو دیکھ کر آج دل بار بار ایک ہی صدا دیتا ہے گھر واپس آ جاو ، یہ صدا صرف کسی پردیس میں بسنے والے بیٹے کے لیے نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کے لیے ہے جو اپنے گھر، اپنے معاشرے اور اپنی ذمہ داریوں سے دور ہوتا جا رہا ہے آج ہمارا سب سے بڑا المیہ صرف مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی کشمکش یا امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ رشتوں کا کمزور ہونا بھی ہے ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں کبھی شام ڈھلتے ہی گھر کے دروازے پر نظریں جم جاتی تھیں ،باپ کو بیٹے کا انتظار، ماں کو اولاد کی فکر اور بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کی آمد کا اشتیاق رہتا تھا لیکن آج موبائل فون نے رابطہ تو آسان کر دیا ہے مگر دلوں کے فاصلے کم نہیں کیے، ہر شخص اپنی دنیا میں مصروف ہے کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے، کسی کی نظر کاروبار پر، کسی کی سیاست پر اور کسی کی فکر صرف اپنے مستقبل کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مستقبل میں ہمارا گھر کہاں ہے؟

پاکستان آج کئی آزمائشوں سے گزر رہا ہے ،معیشت، مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی کشمکش اور امن و امان کے مسائل نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے سرکاری اعداد و شمار معاشی بہتری کے اشارے دیتے ہیں، مگر عام آدمی کے گھر کا بجٹ کسی معاشی رپورٹ سے نہیں بنتا۔ وہ دکان پر آٹے، چینی، گھی، سبزی، گوشت اور دوا کی قیمت دیکھتا ہے۔ والد اپنے بچوں کی فیس سوچتا ہے، مزدور روزگار کا، کسان فصل کا اور نوجوان اپنے مستقبل کا،ایسے حالات میں اگر گھر کا ایک فرد بیرونِ ملک چلا جائے تو گھر والوں کی امید اسی سے وابستہ ہو جاتی ہے ،وہ پردیس میں محنت کرتا ہے، پیسے بھیجتا ہے مگر اس کے بدلے اپنے بچوں کا بچپن، والدین کی قربت اور گھر کی خوشیاں کھو دیتا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ بیرونِ ملک جانا غلط ہے رزقِ حلال کے لیے جدوجہد کرنا کوئی جرم نہیں اس وقت لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک رہ کر اپنے خاندانوں کا سہارا بنے ہوئے ہیں ان کی محنت قابلِ احترام ہے مگر سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پردیس عارضی ضرورت کے بجائے مستقل فرار بن جائے اگر ماں بوڑھی ہو چکی ہے تو اس کی آنکھوں میں دیکھو اسے تمہارے پیسوں سے زیادہ تمہاری آواز، تمہاری موجودگی اور تمہارے ہاتھ کی ضرورت ہے اگر باپ خاموش رہنے لگا ہے تو اس خاموشی کو پڑھو شاید وہ اپنی کمزوری تم سے چھپا رہا ہو اگر بچے بڑے ہو رہے ہیں تو یاد رکھو ان کی زندگی میں والدین کی موجودگی کسی مہنگے تحفے کا بدل نہیں ہو سکتی،

آج پاکستان کو بھی اپنے لوگوں کی ضرورت ہے سیاسی اختلافات نے معاشرے کو تقسیم کیا ہے ہر طرف الزام تراشی، نفرت اور عدم برداشت کا ماحول دکھائی دیتا ہے سیاسی جماعتوں کے اختلافات اپنی جگہ، مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سیاست آئے گی اور چلی جائے گی، حکومتیں بدلیں گی، مہنگائی کم یا زیادہ ہوگی، مگر اگر معاشرے کے دل سے برداشت، محبت اور اخوت نکل گئی تو نقصان بہت بڑا ہوگا ،ہم ہر اختلاف کو دشمنی کیوں سمجھتے ہیں؟ کیوں نہیں ہم یہ تسلیم کرتے کہ ایک شخص کی رائے ہم سے مختلف ہو سکتی ہے اور پھر بھی وہ ہمارا بھائی، دوست، پڑوسی اور پاکستانی ہو سکتا ہے؟ آج ہمیں ایک دوسرے کے خلاف نفرت نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے جگہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے, ہمیں اپنے نوجوانوں سے بھی کہنا ہوگا کہ صرف بیرونِ ملک جانے کو کامیابی کا آخری راستہ نہ سمجھیں اپنے ملک میں مواقع پیدا کرنا، کاروبار شروع کرنا، ہنر سیکھنا، تعلیم حاصل کرنا اور دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرنا بھی کامیابی ہے ملک انہی لوگوں سے بنتے ہیں جو مشکلات دیکھ کر بھاگتے نہیں بلکہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔

ہمیں حکومتوں سے بھی سوال کرنا چاہیے کہ نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا؟ تعلیم کب عام ہوگی؟ صحت کی سہولتیں کب بہتر ہوں گی؟ عام آدمی کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق کب ملے گا؟ لیکن سوال کرنے کے ساتھ ہمیں اپنا کردار بھی ادا کرنا ہوگا صرف حکمران ملک نہیں بناتے، قومیں بھی ملک بناتی ہیں۔اگر تاجر ایماندار ہو، استاد مخلص ہو، صحافی ذمہ دار ہو، ڈاکٹر مسیحا ہو، وکیل انصاف کا ساتھ دے، سیاست دان ذاتی مفاد سے بلند ہو اور عام شہری قانون کی پاسداری کرے تو ملک کے حالات بدل سکتے ہیں اور سب سے پہلے ہمیں اپنے گھروں کو بچانا ہوگا۔

اپنے والدین سے بات کیجیے , بچوں کے ساتھ وقت گزاریے , شریکِ حیات کی بات سنیے , بھائی سے ناراضی ختم کیجیے, بہن کو فون کیجیے کسی ضرورت مند رشتہ دار کا ہاتھ تھامیے۔ کیونکہ کبھی کبھی قوموں کی تعمیر بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں پیدا ہونے والی محبت سے ہوتی ہے۔ آج اگر کوئی بیٹا پردیس میں بیٹھا یہ تحریر پڑھ رہا ہے تو میری آواز اس تک پہنچے تو اسے حکم نہیں، محبت سمجھ کر سنے کہ گھر واپس آ جاؤ، اگر حالات اجازت نہیں دیتے تو کم از کم دل کو گھر سے جدا نہ ہونے دو، والدین سے رابطہ رکھو، بچوں کی تربیت میں شریک رہو، اپنے وطن کو یاد رکھو اور جہاں رہو پاکستان کی عزت کا سبب بنو۔اور اگر وطن میں رہنے والا شخص اپنے ہی گھر سے دور ہو گیا ہے تو اس کے لیے بھی یہی پیغام ہے کہ گھر واپس آ جاؤ ، کیونکہ گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں ، گھر وہ جگہ ہے جہاں کوئی آپ کے آنے کا انتظار کرتا ہے، جہاں آپ کی خاموشی بھی سمجھی جاتی ہے، جہاں آپ کی کامیابی پر تالیاں بجتی ہیں اور شکست پر کندھے پر ہاتھ رکھا جاتا ہے۔ملک بھی ہمارا گھر ہے ، آئیے اس گھر کو چھوڑنے کے بجائے سنوارنے کا عہد کریں شاید تمہارے آنے سے کسی ماں کی آنکھ کا انتظار ختم ہو جائے، کسی بچے کا بچپن سنور جائے، کسی باپ کے دل کو سکون مل جائے اور شاید ہمارے پاکستان کے بکھرے ہوئے رشتوں میں پھر سے محبت کی روشنی پیدا ہو جائے تو خدارا گھر واپس آ جاو

More posts