Baaghi TV

احوال پہلی قومی ادبی کانفرنس کا ،تحریر : حافظ ملک جمشید

زندگی میں ادب کی دنیا میں جب پاوں رکھا تو الف ب کا بھی پتہ نہ تھا مگر چند دوستوں کی محبت اور والدین اور اساتذہ کی دعائیں ساتھ تھیں تو قدم بڑھتے گے۔ ابتدا میں روزنامہ ہزارہ ایکسپریس مانسہرہ میں کالم نگاری سے ابتدا کی۔ یہ سفر جاری تھا کہ پاسبان بزمِ قلم پاکستان سے ناتا جڑ گیا۔ وہ شاید زندگی کا بہت حسین لمحہ تھا جب مدثر سبحانی صاحب نے گروپ میں ایڈ کیا اور میرا ادبی سفر صحیح معنوں میں شروع ہوا۔ اسی کے ساتھ ساتھ بزمِ مصنفین ہزارہ سے وابستگی ہوئی اور میرے کالم کتابی صورت میں سامنے آئے اور ساتھ ہی ساتھ خاکسار نوٹس بھی لکھے۔ اسی دوران مختلف تقاریب میں جانے کا موقع بھی ملا اور 2022ء میں ایبٹ آباد میں ایک تقریب بھی سجائی۔ پھر اس کے بعد ادبی سفر تیز ہوا اور ملک کے مختلف بڑے شہروں میں ادبی تقاریب میں شرکت کا موقع ملا اور خدا نے دو درجن کے قریب ایوارڈز اور کئی سرٹیفیکیٹس سے نوازا ۔

اس سال جب سکول کی چھٹیاں ہونے لگیں تو ایک دن ذہن میں خیال آیا کہ ایک قومی سطح کی ادبی تقریب سجانی چاہیئے جس میں ملک بھر سے مصنفین ہمارے شہر ایبٹ آباد کا رخ کریں اور ان کو ادبی خدمات پر ایوارڈز و اسناد سے نوازا جائے۔ یوں مئی کے مہینے میں ایک دن بیٹھے بیٹھے ایک چھوٹا سا اشتہار بنایا اور مختلف ویٹس ایپ گروپ میں شیئر کر دیا۔

کہتے ہیں نا کہ ارادہ پختہ ہو تو منزلیں آسان ہوتی ہیں اور یہی کچھ میرے ساتھ ہوا۔ وہ چھوٹا سا دعوت نامہ نما کارڈ ملک کے طول و عرض میں پھیل گیا اور ہر صوبے سے لوگوں نے کتب بھیجنا شروع کر دیں جن کی تعداد ایک سو بیس سے زیادہ ہو گئی۔ اسلام آباد سے میرے دوست جج بن کر آئے اور کتب کی ورق گردانی فرما کر معیاری کتب کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا اور جو کتابیں رہ گئیں، ان کو مزید بہتری اور آئندہ کے لیے خوش آمدید بولا۔ جولائی کا مہینہ مکمل تیاری میں لگا اور میرے خاص دوست جن کا نام نہ لینا زیادتی ہو گی، محترم ڈاکٹر قمر زمان اعوان صاحب، ڈاکٹر عادل سعید قریشی صاحب، فیضان ہاشمی صاحب، پروفیسر ممتاز حیدر صاحب، جنہوں نے بہت زیادہ رہنمائی کی اور خاص طور پر حافظ محمد عثمان جدون صاحب کہ جنہوں نے دن رات ایک کیا اور ہر وقت میرے ساتھ رہے۔ آپ نے مالی و جانی تعاون اور باہر کے مہمانوں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یوں بروز اتوار 9 اگست کی صبح پاسبان بزمِ قلم کے بینر تلے "پہلی ادبی کانفرنس” پریس کلب ایبٹ آباد میں منعقد ہوئی اور ایک خواب پورا ہوا۔

اس کانفرنس میں ملک بھر سے ادب کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شعراء، صحافیوں اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کے آرگنائزر پاسبان بزمِ قلم کے چیئرمین مدثر سبحانی چیمہ اور حافظ ملک جمشید خاکسار تھے۔ نظامت کے فرائض ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد کے براڈ کاسٹرز اور ہردلعزیز شخصیات ڈاکٹر قمر زمان اور فیضان ہاشمی صاحب نے سر انجام دیے۔ تلاوت کی سعادت مولانا انس عباسی صاحب نے حاصل کی اور عبداللہ صاحب اور ریڈیو اور ٹی وی کی مشہور آواز دانش فرید صاحب نے نعتِ رسولِ مقبول پیش کیں۔ بعد ازاں چیئرمین پاسبان بزمِ قلم نے تنظیم کا تعارف پیش کیا اور قلم کاروں کو ان کی ذمہ داریوں سے متعلق آگاہی فراہم کی۔ ڈاکٹر عادل سعید قریشی، ڈاکٹر تحسین بی بی، پروفیسر ناصر داؤد، ڈاکٹر صاحب زادہ جواد الفیضی صاحب نے گفتگو کی اور مقالات بھی پیش کیے گئے۔

پروگرام کے مہمان خصوصی جناب حاجی نعیم اعوان صاحب نے اپنے بیان میں ادیبوں کی خدمات کو سراہا اور انہیں زمین پر ستارے قرار دیتے ہوئے اپنے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ ملک کے عرض و طول سے آئے ہوئے مصنفین کو ان کی کتب کی اشاعت پر بالترتیب (فخرِ پاکستان، فخرِ ہزارہ اور علامہ اقبال ایوارڈ) سے نوازا گیا۔ پروگرام آرگنائزر حافظ ملک جمشید نے مہمانوں اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا ۔تقریب کے اختتام پر صدارتی خطبہ دیتے ہوئے مایہ ناز مصنف اور ریٹائرڈ پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجوئیٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد، جناب پروفیسر ممتاز حیدر صاحب نے قومی ادبی کانفرنس کے انعقاد کو بڑا کارنامہ اور ادب کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔پاسبان بزمِ قلم کی ٹیم بالخصوص مدثر سبحانی چیمہ، حافظ ملک جمشید، حافظ عثمان، ڈاکٹر قمر زمان اور فیضان ہاشمی صاحب کی کاوشوں کو سراہا۔
ملک بھر سے مصنفین کو چار کیٹیگری میں ایوارڈ دیے گے

فخر پاکستان ایوارڈ

1۔ مولانا محمد اعظم قادری ایبٹ آباد
2۔ حافظ محمد عثمان۔ ایبٹ آباد
3۔ سائرہ حمید تشنہ ۔ لاہور
4۔ پروفیسر ممتاز حیدر ۔۔ایبٹ آباد
5۔ زاہد نعیم شارق۔ قائد آباد
6۔ مولانا محمد طاہر تنولی ۔۔۔مانسہرہ
7۔ عاصم نواز خان طاہرخیلی۔۔۔۔ہری پور
8۔ نسیم سلطان ۔۔۔ آزاد کشمیر
9۔ فائزہ شہزاد۔۔۔ پشاور
10۔ ارشد راہی
11۔ صدیق مجاہد کنجائی
12۔ ریاض ملک ۔۔ لاہور
13۔ سید محمد ظفر علی شاہ۔ ۔۔ہری پور
14۔ ڈاکٹر محمد عبد المالک
15۔ احسان فیصل کنجاہی ۔ گجرات
16۔ شبیر احمد بھٹی۔ اسلام آباد
17۔ مفتی عنایت الرحمن ہزاروی۔ مانسہرہ
18۔ مریم خان ۔ ۔پشاور
19۔ پروفیسر محمد زمان مضطر ۔ مانسہرہ
20۔ انجینئر علی رضوان ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ
21۔ملک عظیم ناشاد اعوان مانسہرہ
22۔ پروفیسر وحید اختر وحید مانسہرہ
23۔ اکبر علی دعا۔
24 ۔ ظہیر احمد تنولی۔۔ ایبٹ آباد
25۔ تمثیلہ لطیف ۔۔۔اسلام آباد
26۔ عبد الرحیم بھٹی۔ ہری پور
27۔ ڈاکٹر جاوید اقبال افگار ۔۔۔واہ کینٹ
28۔ ڈاکٹر آصف رضا عاشق قریشی خوشاب
29۔ بشیر ملنگ
30۔تابندہ فرخ پشاور

علامہ اقبال ایوارڈ

1۔ حلیمہ طارق۔۔۔۔۔۔کالم نگاری ۔اسلام آباد
2۔ محمد شفاء اللہ کوکب
3۔ ایمن ریاض ۔۔۔۔۔ادبی خدمات ۔۔۔چکوال
4۔ صوفی عارف امین ۔ ۔مانسہرہ
5۔ سحرش اعجاز
6۔ محمد یاسر نیازی
7۔ محمد خالد ۔۔بالاکوٹ
8۔ سمندر خان سمندر۔ بالاکوٹ
9۔ عائشہ صدیقہ
10۔ بنت حوا شاہین اختر اسلام آباد
11۔ تابندہ طارق عکس۔۔۔۔ ادبی خدمات
12۔ منیر صابری کنجاہی
13۔ شیخ سیف اللہ
14۔ اخونزادہ شاہ سعود دیشانوی
15۔ عائشہ گل فیصل آباد
16۔ اشتیاق احمد نوشاہی
17۔ مفتی اسماعیل نیاز پشاور
18۔ جویریہ محبوب۔۔۔۔۔ گرافک ڈیزائنر ایبٹ آباد
19۔ حاجی محمد اسلم جاوید
20۔ عاقل عبید خیلوی
21۔ پروفیسر زمرد سلطانہ آلہ آبادی
22۔ پروفیسر عائشہ خالد ایبٹ آباد
23۔ پروفیسر سمیہ زیب مانسہرہ
24 ۔ صالحہ خلیل ۔۔۔ادبی و تحقیقی خدمات اسلام آباد
25۔ ڈاکٹر سائرہ بی بی۔۔۔ادبی و تحقیقی خدمات لاہور

پاسبان بزم قلم ایوارڈ

1۔ عذرا عندلیب
2۔ ظہیر احمد تنولی
3۔حافظ عثمان جدون
4۔ عاقب سلیم
5۔مولانا محمد اسماعیل نیاز
6۔عاقب سلیم
7۔مولانا جنید صدیقی

فخر ہزارہ ادبی ایوارڈ
1۔ ڈاکٹر عادل سعید قریشی ایبٹ آباد
2۔ ملک ثاقب شاد تنولی ایبٹ آباد
3۔ ملک بلال اعوان زادہ ۔۔۔۔۔ہندکو اردو شاعر مانسہرہ
4۔ ڈاکٹر قمر زمان اعوان ۔۔۔۔نظامت و ادبی خدمات ایبٹ آباد
5۔ فیضان ہاشمی ۔ ۔۔۔۔نظامت و کتاب ایبٹ آباد
6۔ عبد القدیر شریف مانسہرہ
7۔ عاصم نواز خان طاہرخیلی۔۔۔۔۔صحافتی خدمات ہری پور
8۔محمد رحمان ساحل بنوی
9. دوست محمد اعوان ایبٹ آباد
10. سردار افتخار ۔۔۔۔۔ صحافتی خدمات ایبٹ آباد
11. ڈاکٹر محمد نواز تنولی ایبٹ آباد
12. سردار تنولی ایبٹ آباد
13. عبد الصبور حسین شاہ ۔ ایبٹ آباد انتظامی امور خدمات

پروگرام آرگنائز حافظ ملک جمشید خاکسار کو پاسبان بزم قلم پاکستان کی جانب سے بہترین تقریب انعقاد کرنے پر اعزازی شیلڈ سے نوازا جبکہ آدھی اڑان کتاب پر فخر پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پاک سٹیشنری ایند بکس ڈیلر کی جانب سے بھی حافظ ملک جمشید کو اعزازی شیلد سے نوازا گیا ۔
تقریب کے اختتام پر انجمن قیامِ امن پاکستان کے ذمہ داران کی جانب سے مہمانوں کے لیے ظہرانے کے انتظامات بھی کئے گئے، جن میں مولانا عبد الودود ہاشمی , مولانا محمد شہباز ، مولانا عدیل احمد اور مولانا صدیق سلفی شامل تھے۔ میری دو خاص تلمیذات حمنہ الیاس اور جویریہ محبوب انتظامیہ میں شامل تھیں جبکہ میرے عزیز رضا گلگتی، سردار افتخار، آصف نواز، نیاز عباسی اور ان کی پوری ٹیم کی معاونت بھی شامل رہی۔ یوں بروز اتوار ظہر کے وقت یہ شاندار قومی ادبی کانفرنس اختتام پذیر ہوئی اور ملک بھر سے آئے لوگ خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہوئے ۔

More posts