Baaghi TV

مہک کا یادگار خاص نمبر ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

کسی بھی قوم کی فکری، اخلاقی اور نفسیاتی تربیت کا بنیادی سرچشمہ وہ ادب ہوتا ہے جو اس کے بچوں کے لیے تخلیق کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں، جہاں ڈیجیٹل سکرینز نے بچوں کی دنیا کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے، معیاری اور ضخیم ادبی مجلات کی باقاعدہ اشاعت معجزے سے کم نہیں۔ ایسے میں سہ ماہی مہک کا 292 صفحات پر مشتمل خصوصاً خاص نمبر شائع ہونا بچوں کے ادب کی دنیا میں ایسا تاریخی سنگِ میل ہے جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

عام شمارے کی تین گنا زیادہ ضخامت اور دلکش رنگین صفحات پر مشتمل یہ شمارہ نہ صرف انتظامیہ کی انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ بچوں کے رسائل کی تاریخ میں منفرد اور پہلا تجربہ بھی ہے۔ ایڈیٹر آصف صاحب اور سب ایڈیٹر تابندہ طارق نے جس جانفشانی سے اس گلدستے کو ترتیب دیا ہے، اس پر پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔

اس خاص نمبر کی سب سے بڑی خوبصورتی پاکستان کے سینئر اور تجربہ کار قلم کاروں کا ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہے۔ ادبِ اطفال کے معتبر نام نذیر انبالوی اور نامور کہانی کار کاوش صدیقی کی اس مجلے میں پہلی بار آمد نے شمارے کی وقار کو دوبالا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عمران مشتاق جیسے پچاس سالہ تجربہ کار ادیب، ابنِ آس، اور طارق ریاض کی موجودگی نے بچوں کے لیے سائنسی، اخلاقی اور اصلاحی موضوعات کا وسیع دائرہ کار فراہم کیا ہے۔

رسالے میں جہاں سینئر لکھاریوں کے قلم کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، وہاں جدید اور ابھرتے ہوئے قلم کاروں نے بھی خوب جوہر دکھائے ہیں۔ ماہم جاوید، عاطر شاہین، عادل منہاج، احمد نعمان شیخ، توصیف ملک، فہیم زیدی، ایس ایم رحمانی اور رمشا جاوید نے بچوں کی نفسیات، سائنسی تجسس، ماحولیات اور معاشرتی اصلاح جیسے نازک موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے اپنے قلم کی گرفت میں لیا ہے۔ اسی طرح منظوم کلام کے شعبے میں رمضان شاکر، ایوب اختر، کہکشاں ارجمند، ڈاکٹر اسحاق وردگ اور امان اللہ نیر شوکت نے ایسی لائحہ عمل تحریریں دی ہیں جو بچوں میں ذوقِ سلیم پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

تاہم، بیدار مغز قاری اور کالم نگار کی حیثیت سے یہ بات بھی مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ ضخامت سے زیادہ مواد کے معیار، ربط اور توازن کو برقرار رکھنا کس قدر اہم ہے۔ خاص نمبر میں بعض مقامات پر پختگی اور اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی۔ احمد عدنان طارق، فیضان مسعود، حنیف سحر اور ناصر محمود فرہاد جیسے قلم کاروں کی پیشکش میں غیر ضروری طوالت، ربط کی کمی اور شدید پروف ریڈنگ کے مسائل نمایاں نظر آئے۔ فتح محمد اور غلام عباس کی تحریریں بچوں کی سطح سے اوپر اٹھ کر بڑوں کی طبع کے قریب معلوم ہوئیں۔ بچوں کے لیے لکھتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ تحریر کی طوالت اور زبان بچوں کے ذہنی افق سے ہم آہنگ رہے۔
ان چند تضادات اور تکنیکی خامیوں سے قطع نظر، اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سہ ماہی مہک کا یہ تاریخی نمبر بچوں کے ادب میں نئی روح پھونکنے کا سبب بنا ہے۔ ایڈیٹر کی ڈاک میں قارئین کا سیر حاصل تبصرہ اور اس شمارے میں میری اپنی کاوش کی شمولیت میرے لیے بھی فکری اعزاز ہے۔

یہ شمارہ آنے والے وقت میں ان تمام محققین اور اداروں کے لیے شاندار مشعلِ راہ ثابت ہوگا جو ادبِ اطفال کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ جب بھی پاکستان میں بچوں کے لیے کی جانے والی پیش رفت کا تاریخی جائزہ لیا جائے گا، سہ ماہی مہک کے اس 292 صفحاتی شاہکار کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔

More posts