ہم لفظوں کے زمانے میں رہتے ہیں۔ ہر احساس کے لیے ایک جملہ ہے، ہر کیفیت کے لیے ایک اظہار، ہر تعلق کے لیے کوئی نہ کوئی وضاحت۔ شاید اسی لیے ہم نے خاموشی کو کمزوری سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ مگر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان کے اندر کی سب سے گہری آواز وہ ہوتی ہے جو زبان تک نہیں آتی۔
سیرتِ رسول ﷺ کے بارے میں سوچتے ہوئے ایک بات بار بار دل کو چھوتی ہے کہ عظمت ہمیشہ بلند آواز میں اپنا تعارف نہیں کرواتی۔ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن کی تاثیر ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے سکون میں محسوس ہوتی ہے۔ وہ کسی کو اپنے ہونے کا یقین دلانے کے لیے شور نہیں کرتے، اُن کا کردار خود اُن کی پہچان بن جاتا ہے۔
ہم بھی شاید زندگی میں بہت کچھ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اپنے اچھے ہونے کا، اپنی سچائی کا، اپنی محبت کا، اپنی نیت کا۔ کبھی کبھی اتنا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل چیز کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جو شخص واقعی اندر سے مطمئن ہو، اسے ہر وقت اپنے بارے میں وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اور شاید یہی خاموشی ہمیں اپنے اندر ایک اور دروازہ دکھاتی ہے۔ کبھی کسی نے ہمیں تکلیف دی اور ہم نے جواب نہیں دیا، اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں تھے، بلکہ اس لیے کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ کبھی کسی نے ہمیں غلط سمجھا اور ہم نے اپنی پوری زندگی اسے صحیح ثابت کرنے میں نہیں لگا دی۔ کبھی ہم جانتے تھے کہ ہم حق پر ہیں، مگر سامنے والے کو نیچا دکھانا پھر بھی ضروری نہیں سمجھا۔ یہ خاموشی بظاہر چھوٹی ہوتی ہے، مگر اندر بہت بڑا کام کر رہی ہوتی ہے۔
یہ انسان کو اپنے نفس سے ملاتی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ہماری سب سے بڑی خواہش انصاف نہیں ہوتی، اپنی برتری ثابت کرنا ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا مانے کہ غلطی اُس کی تھی، ہم صحیح تھے، ہمیں دکھ پہنچا، ہمیں ناانصافی ہوئی۔ اور جب دوسرا یہ سب تسلیم نہیں کرتا تو ہمارے اندر ایک بےچینی جنم لیتی ہے۔ شاید سکون اُس دن شروع ہوتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر حقیقت کو دنیا سے منوانا ضروری نہیں۔ کچھ سچائیاں انسان اور اُس کے رب کے درمیان رہ جاتی ہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے سیرت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو محسوس ہوتا ہے: وقار۔ وہ وقار جو غصے میں بھی انسان کو اپنے مقام سے گرنے نہیں دیتا، وہ وقار جو اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیتا، وہ وقار جو انسان کو اپنی تکلیف کے باوجود دوسرے کی انسانیت دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ طاقت کا مطلب جواب دینا ہے، مگر شاید اصل طاقت کبھی کبھی جواب دینے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی اپنے اندر کے طوفان کو خاموش کر دینا ہے۔ یہ خاموشی فرار نہیں، اپنے آپ پر اختیار ہے۔ اور شاید انسان کی سب سے مشکل فتح بھی یہی ہے کہ وہ دوسروں کو فتح کرنے کے بجائے اپنے اندر اٹھنے والی تلخی، انتقام اور انا پر قابو پا لے۔
ربیع الاول میں جب ہم حضور اکرم ﷺ کی سیرت کی طرف دیکھتے ہیں تو شاید ہمیں صرف بڑے واقعات نہیں دیکھنے چاہئیں؛ ہمیں اُن چھوٹے انسانی لمحوں کو بھی محسوس کرنا چاہیے جہاں کردار کا اصل حسن سامنے آتا ہے۔ کیونکہ انسان کی حقیقت اکثر اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اُس کے پاس اختیار ہو، سامنے کوئی کمزور ہو، اور پھر بھی اُس کے دل میں نرمی باقی رہے۔
شاید اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ سیرت کو پڑھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے رویوں کو اُس کے سامنے رکھیں۔ ہم کیسے بولتے ہیں؟ کیسے ناراض ہوتے ہیں؟ کیسے معاف کرتے ہیں؟ کیسے خاموش رہتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، جب کوئی ہمیں ہماری خواہش کے مطابق اہمیت نہ دے تو ہم اپنے اندر کیا بن جاتے ہیں؟ شاید انسان کی تربیت بڑے امتحانوں میں کم اور انہی چھوٹے لمحوں میں زیادہ ہوتی ہے۔
اور شاید خاموشی کا سب سے خوبصورت راز یہ ہے کہ جب انسان اپنے اندر کا شور کم کر دیتا ہے تو اُسے دوسروں کی آوازیں ہی نہیں، اپنے دل کی حقیقت بھی صاف سنائی دینے لگتی ہے۔ ربیع الاول شاید ہمیں اسی خاموش جگہ تک لے جانے کا ایک بہانہ ہے—جہاں نہ دکھاوے کی ضرورت رہتی ہے، نہ وضاحتوں کی؛ صرف ایک دل ہوتا ہے، ایک نسبت ہوتی ہے، اور اپنے آپ کو بہتر بنانے کی ایک خاموش خواہش۔
