Baaghi TV

ناجائز تعلقات کا بڑھتا ہوا رجحان،تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

معاشرے کی بنیاد اعتماد، حیا، خاندانی اقدار اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے۔ جب ان بنیادی ستونوں میں کمزوری پیدا ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک تشویش ناک رجحان تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے اور وہ ہے ناجائز تعلقات کا بڑھتا ہوا چلن۔ یہ مسئلہ محض اخلاقی یا مذہبی نوعیت کا نہیں بلکہ خاندانی، سماجی اور نفسیاتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

ماضی میں خاندان فرد کی تربیت کا سب سے مضبوط ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ والدین بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں، ترجیحات اور اخلاقی تربیت پر توجہ دیتے تھے۔ گھر میں گفتگو، باہمی وقت اور اعتماد کا رشتہ موجود ہوتا تھا۔ آج مصروف زندگی، معاشی دباؤ، سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی نے انسانی تعلقات کی نوعیت بدل دی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد بھی بعض اوقات ایک دوسرے سے ذہنی طور پر بہت دور ہو چکے ہیں۔ یہی جذباتی خلا بعض افراد کو ایسے تعلقات کی طرف لے جاتا ہے جو بالآخر ان کی اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور موبائل فون نے رابطے کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن اس سہولت کے ساتھ کئی نئے چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اجنبی افراد سے رابطہ، نجی گفتگو اور جذباتی وابستگی بظاہر معمولی بات سے شروع ہوتی ہے، مگر بعض اوقات یہ تعلق حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی خود نہیں بلکہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ جب انسان اپنی اخلاقی ذمہ داری اور حدود کو نظر انداز کر دے تو سہولت بھی نقصان کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس رجحان کے پیچھے ایک اہم سبب گھریلو زندگی میں جذباتی فاصلے بھی ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان گفتگو کا فقدان، ایک دوسرے کی ضروریات کو نہ سمجھنا، مسلسل جھگڑے، بے اعتمادی اور عدم توجہی رشتے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی محرومیوں کا حل گھر سے باہر تلاش کرنے لگتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیتا ہے، کیونکہ وقتی جذباتی سکون کے پیچھے اکثر طویل مدتی ذہنی اذیت، خاندانی انتشار اور اعتماد کا خاتمہ چھپا ہوتا ہے۔

معاشی اور سماجی تبدیلیاں بھی اس مسئلے کو متاثر کرتی ہیں۔ تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ مرد و خواتین کا مختلف شعبوں میں ساتھ کام کرنا ایک فطری معاشرتی ضرورت بن چکا ہے۔ اس ماحول میں پیشہ ورانہ روابط ناگزیر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیشہ ورانہ تعلقات کو واضح حدود، احترام اور ذمہ داری کے ساتھ برقرار رکھا جائے۔ ہر مرد و عورت کے باہمی رابطے کو غلط نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں، لیکن حدود سے تجاوز کو معمول بنا دینا بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس مسئلے کا ایک اور پہلو تفریحی ذرائع میں بعض اوقات ایسے مواد کی کثرت ہے جو غیر ذمہ دارانہ تعلقات کو معمول، قابلِ قبول یا پرکشش بنا کر پیش کرتا ہے۔ مسلسل ایسا مواد دیکھنے سے خصوصاً کم عمر افراد کے ذہنوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ نوجوانی ایک حساس عمر ہے؛ اس مرحلے پر شخصیت، ترجیحات اور اقدار تشکیل پا رہی ہوتی ہیں۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو محض ڈانٹنے کے بجائے اعتماد، دلیل اور حکمت کے ساتھ صحیح اور غلط میں فرق سمجھائیں۔

دینی اور اخلاقی تعلیم بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہمارے مذہبی اور معاشرتی اصول انسان کو حیا، پاکیزگی، وفاداری اور ذمہ داری کی تعلیم دیتے ہیں۔ تاہم صرف وعظ کافی نہیں۔ جب تک گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرہ عملی مثال پیش نہیں کریں گے، اخلاقی تعلیم مؤثر نہیں ہو سکتی۔ بچوں کو عزت، اعتماد، ذاتی حدود اور ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں عمر کے مطابق تعلیم دینا ضروری ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے سب سے پہلے خاندان کو مضبوط بنانا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ اور قابلِ اعتماد تعلق قائم کریں کہ وہ اپنے مسائل چھپانے کے بجائے والدین سے بات کر سکیں۔ میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا، اختلافات کو گفتگو کے ذریعے حل کرنا اور اعتماد کو اہمیت دینا چاہیے۔ کسی رشتے میں مشکل پیدا ہو تو اسے چھپانے یا باہر سہارا تلاش کرنے کے بجائے باہمی مشاورت اور ضرورت پڑنے پر کسی قابلِ اعتماد بزرگ یا ماہرِ مشاورت کی مدد لینا زیادہ مناسب راستہ ہے۔

تعلیمی اداروں میں بھی کردار سازی کو محض نصابی سرگرمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ طلبہ کو ڈیجیٹل اخلاقیات، آن لائن رازداری، صحت مند حدود اور ذمہ دارانہ تعلقات کے بارے میں آگاہی دی جانی چاہیے۔ اسی طرح سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر آن لائن رابطہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتا اور ہر جذباتی کشش حقیقی محبت نہیں ہوتی۔

آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ناجائز تعلقات کا مسئلہ صرف افراد کے کردار پر انگلی اٹھانے سے حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں خاندان مضبوط ہوں، گفتگو موجود ہو، نوجوانوں کو صحیح رہنمائی ملے، ٹیکنالوجی ذمہ داری سے استعمال کی جائے اور اخلاقی اقدار کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ معاشرے کی اصلاح کا آغاز فرد سے ہوتا ہے، مگر اس کا ثمر پورے خاندان اور معاشرے کو ملتا ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم وقتی جذبات اور مصنوعی تعلقات کو ترجیح دیں گے یا ان مضبوط رشتوں کو جن پر ہماری خاندانی اور معاشرتی زندگی قائم ہے۔ وفاداری، حیا، اعتماد اور ذمہ داری صرف الفاظ نہیں بلکہ وہ اقدار ہیں جو کسی بھی معاشرے کو اندر سے مضبوط بناتی ہیں۔ اگر ہم نے آج ان اقدار کی حفاظت کی تو آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ محفوظ، متوازن اور باوقار معاشرہ دے سکیں گے۔

More posts