Baaghi TV

وزیراعظم کا پاکستان کے 100 زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زراعت کے شعبے میں نوجوانوں کے لیے اہم پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجا جائے گا، جہاں انہیں زیتون کی جدید کاشت، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔

وزیراعظم نے یہ اعلان پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے زیتون کے شعبے میں کسانوں، محققین اور برآمد کنندگان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کے نتیجے میں پاکستان میں زیتون کی کاشت کے فروغ کی ایک اچھی مثال قائم ہوئی ہے اور اس شعبے میں مزید ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

شہباز شریف نے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 60 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زرعی انقلاب لانے کے لیے کسانوں کو ہر ممکن تعاون، جدید سہولیات اور ضروری وسائل فراہم کرنا ہوں گے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے اور کسانوں کی آمدن بھی بہتر ہو۔

وزیراعظم نے زیتون کی پیداوار میں اضافے کو ملک کے خوردنی تیل کی درآمدات کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملکی پیداوار میں اضافہ کرکے خوردنی تیل کے درآمدی بل میں سے صرف 400 ملین ڈالر بھی بچا لیے جائیں تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑی خدمت ہوگی۔ وزیراعظم نے پام آئل، سورج مکھی اور دیگر تیل دار فصلوں کی کاشت کو بھی فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک بتدریج خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرسکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو قابل ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، ٹریکٹر مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون موجود ہے، جسے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیتون کی پیداوار، جدید پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں اٹلی کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں انہیں عالمی معیار کے مطابق زیتون کی کاشت اور اس سے متعلق مختلف مراحل کی عملی تربیت دی جائے گی۔

شہباز شریف کے مطابق اٹلی جانے والے نوجوانوں کو صرف زیتون کی کاشت ہی نہیں بلکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے جدید طریقوں سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد یہ نوجوان وطن واپس آکر پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید طریقہ کار متعارف کرانے اور زیتون کی پیداوار و برآمدات بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ زیتون کا تیل صحت کے اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے اور پاکستان میں اس کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف عوام کے لیے صحت مند غذائی انتخاب کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ کسانوں کی آمدن میں اضافے اور ملک کے لیے برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ زیتون کی کاشت کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں موجود موزوں زمینوں اور موسمی حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، مناسب آبپاشی، جدید پروسیسنگ اور مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے اس شعبے کو ایک مضبوط زرعی صنعت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کسانوں کو ضروری سہولیات اور تعاون فراہم کریں گی تاکہ زیتون سمیت مختلف زرعی شعبوں میں پیداوار بڑھائی جاسکے، درآمدات پر انحصار کم ہو اور پاکستان زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ خودکفالت کی جانب بڑھ سکے۔

More posts