قومیں نظریات سے بنتی ہیں، نعروں سے نہیں۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ہر دور میں نظریے کو شخصیت کے تابع کر دیا۔ جس دن سچ کا معیار "کون کہہ رہا ہے” بن گیا، اسی دن حق کی آواز دب گئی۔
شخصیت پرستی دراصل عقل کی خودکشی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں مریض دلیل نہیں مانگتا، ثبوت نہیں مانگتا، صرف نام مانگتا ہے۔ اگر فلاں نے کہا ہے تو سفید بھی کالا ہے۔ اگر فلاں نے کیا ہے تو غلط بھی درست ہے۔ تنقید غدداری بن جاتی ہے، سوال بغاوت ٹھہر جاتا ہے اور خاموشی کو وفاداری کا نام دے دیا جاتا ہے۔
ہمارے تعلیمی ادارے، سیاسی جماعتیں، مذہبی حلقے اور میڈیا ہاؤسز… سب اسی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں۔ استاد غلط پڑھا رہا ہو تو "سر ہیں، کچھ سوچ کر ہی کہہ رہے ہوں گے”۔ لیڈر قوم کا سودا کر دے تو "لیڈر ہے، مجبوری ہو گی”۔ عالم غلط بات کرے تو "مفتی صاحب ہیں، ہماری عقل کہاں”۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ادارے کمزور ہو گئے اور افراد ناقابلِ احتساب بن گئے۔ جب ادارہ نہ رہے تو ایک شخص کے جانے سے نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ جب شخصیت بڑی ہو جائے تو قانون چھوٹا ہو جاتا ہے۔ پھر میرٹ دفن ہوتا ہے اور چاپلوسی تخت پر بیٹھ جاتی ہے۔
اسلام نے 1400 سال پہلے اس بیماری کا علاج بتا دیا تھا: "بات کو دیکھو، کہنے والے کو نہیں”۔ صحابہؓ نے عمرؓ کی بات بھی اسی وقت مانی جب وہ قرآن و سنت کے مطابق تھی۔ انہوں نے کہا "اگر تو ٹیڑھا ہوا تو ہم تلوار سے سیدھا کر دیں گے”۔ یہی صحت مند معاشرہ ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بات کو نہیں بلکہ بات کرنے والے کو اہمیت دیتے ہیں۔ پڑھے لکھے جاہلوں کے معاشرے میں یہی ہوتا ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اللہ کی بات بھی ہمارے محبوب شخص کے خلاف جا رہی ہے تو ہم اللہ کو رد کر کے اپنے دیوتا کو عرش پر بٹھا کر اللہ تعالیٰ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ یہ جہالت ہے؟ ذہنی غلامی ہے؟ شرک ہے یا پھر الحاد؟
حل کیا ہے؟ حل بہت سادہ ہے مگر مشکل ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ کسی کی شخصیت سے متاثر ہو، مگر غلام نہ بنو۔ اختلاف رائے کو توہین نہ سمجھو۔ اور سب سے بڑھ کر… اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کرو کہ بڑے سے بڑے نام کے سامنے بھی سچ کہہ سکو۔ لیکن وہ سچ ہمارے پسندیدہ شخص کی کہی بات نہیں بلکہ حقائق ہونے چاہئیں ۔
ورنہ یاد رکھیں، جہاں شخصیت پرستی ہو وہاں قومیں نہیں، صرف ہجوم پلتے ہیں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے پاکستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
