پشاور میں وزارتِ ریلوے اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، جس کے تحت صوبے میں ریلوے کے نظام کو وسعت دینے اور اہم شہروں کو جدید ریل رابطوں کے ذریعے منسلک کرنے کے منصوبوں پر پیش رفت کی جائے گی۔
معاہدے پر دستخط وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی موجودگی میں کیے گئے۔ معاہدے کے تحت صوبے میں جدید ریلوے نظام کی ترقی اور مختلف شہروں کے درمیان بہتر سفری روابط قائم کرنے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت مل کر اقدامات کریں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بتایا کہ گریٹر پشاور سرکلر ریلوے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو ریلوے کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔ پشاور ویلی ریلوے کے آئندہ مراحل میں نوشہرہ، مردان اور درگئی کو بھی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کا منصوبہ شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مردان، چارسدہ اور پشاور کے درمیان ریلوے رابطے کے ساتھ مستقبل کے مراحل میں طورخم تک ریلوے روابط بھی قائم کیے جائیں گے، جس سے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے درمیان آمدورفت مزید آسان اور تیز ہوگی۔
سہیل آفریدی کے مطابق جدید ریلوے نظام سے لاکھوں مسافروں، طلبہ، مزدوروں اور تاجروں کو سستا، محفوظ اور آرام دہ سفری ذریعہ میسر آئے گا۔ بہتر ریلوے رابطوں سے شہریوں کو روزانہ سفر میں سہولت ملنے کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں کے درمیان معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریلوے روابط بہتر ہونے سے صوبے میں تجارت، سیاحت اور روزگار کے مواقع کو بھی فروغ ملے گا۔ جدید ٹرانسپورٹ نظام سے نہ صرف شہریوں کو سفری سہولت حاصل ہوگی بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد قومی اداروں کو مضبوط بنانا اور عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ٹرین سستا، محفوظ اور آرام دہ سفر فراہم کرتی ہے، اس لیے خیبرپختونخوا میں ریلوے کے نظام کی بہتری کو اہم ترجیح دی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ صوبے میں ریلوے نظام کی ترقی اور توسیع کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ مختلف شہروں کو مرحلہ وار جدید ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کیا جاسکے۔
