Baaghi TV

استاد پانچ ہزار کا، تعلیم لاکھوں کی،تحریر: رشنا اختر

ایک قوم کے مستقبل کی قیمت کیا ہوتی ہے؟
کسی معیشت دان سے پوچھیں تو شاید وہ اعداد و شمار میں جواب دے گا کسی سیاست دان سے پوچھیں تو وہ بجٹ اور پالیسیوں کی بات کرے گا لیکن اگر یہ سوال کسی ایسے شخص سے پوچھا جائے جو واقعی قوموں کی تعمیر کا راز جانتا ہو تو شاید اس کا جواب صرف ایک لفظ ہو۔
"استاد”.
استاد وہ شخص ہے جو بچے کے ہاتھ میں کتاب دیتا ہے لفظوں کو معنی دیتا ہے سوال پوچھنے کا حوصلہ دیتا ہے اور ایک ایسے انسان کی بنیاد رکھتا ہے جو کل ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، افسر، وکیل، صحافی یا خود استاد بن سکتا ہےلیکن پاکستان میں آج اسی استاد کی اپنی زندگی کا سوال ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔جو شخص دوسروں کے بچوں کا مستقبل بناتا ہے اس کا اپنا مستقبل کون بنائے گا؟یہ سوال آج خاص طور پر ان لاکھوں اساتذہ کے حوالے سے اہم ہے جو سرکاری اسکولوں کے بجائے PEF، پارٹنرشپ اسکولوں، مختلف فاؤنڈیشنز اور نجی تعلیمی اداروں میں انتہائی کم معاوضے پر کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں سرکاری سطح پر مفت تعلیم کی بات بہت خوبصورت لگتی ہے۔

بچے کو مفت کتاب ملتی ہے۔اسکول میں داخلہ ملتا ہے۔کئی پروگراموں کے ذریعے تعلیم کا خرچ حکومت یا متعلقہ ادارہ برداشت کرتا ہے لیکن ایک سوال کہیں درمیان میں دب جاتا ہے اس بچے کو پڑھانے والے استاد کا حق کیا ہے؟

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اپنے ریکارڈ کے مطابق PEF براہِ راست پارٹنر اسکول کے اساتذہ کو تنخواہ نہیں دیتا ۔ پارٹنر اسکول خود اساتذہ بھرتی کرتا ہے اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اس کی ذمہ داری ہے۔ PEF اسکول کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے جو اسکول کے مجموعی اخراجات میں استعمال ہوتی ہے۔ یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے۔اگر حکومت یا ایک سرکاری فاؤنڈیشن ایک بچے کی تعلیم کے لیے کسی پارٹنر ادارے کو رقم فراہم کر رہی ہے تو پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہاس رقم میں استاد کا حصہ کتنا ہے؟اس استاد کو ماہانہ کتنی تنخواہ دی جا رہی ہے؟اس کی سروس کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہے؟کیا اسے سالانہ اضافہ ملتا ہے؟
کیا اسے چھٹی ملتی ہے؟
کیا اسے میٹرنٹی/میڈیکل سہولت ملتی ہے؟کیا اس کا سروس ریکارڈ ہے؟
کیا اسے پنشن یا کسی سوشل سکیورٹی نظام کا تحفظ حاصل ہے؟اور سب سے اہم کیا اس کی تنخواہ قانون کے مطابق ہے ۔یہاں وہ حقیقت آتی ہے جو کسی بھی حساس انسان کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔اگر واقعی کسی اسکول میں ایک ڈگری ہولڈر استاد کو پانچ ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تو یہ صرف کم تنخواہ نہیں۔ یہ سوال ہے۔کیا ہم ایک انسان کی محنت کی قیمت اس سے بھی کم کر چکے ہیں جو ایک گھر کا معمولی ماہانہ خرچ بھی پورا نہیں کر سکتی؟ایک نوجوان چار سالہ ڈگری حاصل کرتا ہے۔فیسیں دیتا ہے۔کتابیں خریدتا ہے۔امتحانات دیتا ہے پھر تدریس کو اپنا پیشہ بناتا ہے۔وہ صبح اسکول جاتا ہے۔کلاس لیتا ہے۔سبق تیار کرتا ہے۔کاپیاں چیک کرتا ہے۔
امتحانی ڈیوٹیاں دیتا ہے۔
والدین کے سوالات سنتا ہے۔اسکول انتظامیہ کے احکامات پورے کرتا ہےاور پھر مہینے کے آخر میں اسے ایسی رقم ملتی ہے جس سے شاید ایک متوسط گھر کا بجلی کا بل بھی پورا نہ ہو۔یہ تعلیم کا نظام ہے یا تعلیم یافتہ غربت پیدا کرنے کا نظام؟PEF کے اپنے ریکارڈ میں نگرانی موجود ہے پھر استاد کیوں بے آسرا ہے؟یہ بھی ایک دلچسپ تضاد ہے۔PEF کے مطابق پارٹنر اسکولوں کی نگرانی ہوتی ہے۔ اسکولوں کا معیار جانچنے کے لیے Quality Assurance Test، مانیٹرنگ اور دیگر طریقۂ کار موجود ہیں۔ PEF یہ بھی بتاتا ہے کہ SIS کے ذریعے طلبہ کے ساتھ اساتذہ کا ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے۔ یعنی نظام کے پاس یہ جاننے کا راستہ موجود ہے کہ کتنے بچے ہیں؟کتنے استاد ہیں؟اسکول کہاں ہے؟
کتنے طلبہ پڑھ رہے ہیں؟
اسکول کا معیار کیا ہے؟
پھر سوال یہ ہے۔کیا مانیٹرنگ کے دوران یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ استاد کو کتنی تنخواہ دی جا رہی ہے؟اگر دیکھا جاتا ہے تو پھر کم تنخواہ کی شکایات کیسے باقی رہتی ہیں؟اور اگر نہیں دیکھا جاتا تو پھر استاد کے حق کو نگرانی کے دائرے میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

استاد صرف SIS میں ایک نام نہیں ایک بہت بنیادی مسئلہ شاید یہاں سے پیدا ہوتا ہے۔جب نظام استاد کو صرف ایک ڈیٹا انٹری سمجھنے لگے تو انسان غائب ہو جاتا ہے۔SIS میں استاد کا نام موجود ہے۔حاضری موجود ہے۔کلاس موجود ہے۔طلبہ موجود ہیں۔نتائج موجود ہیں لیکن اس استاد کے گھر کا چولہا اس کے بچوں کی فیس؟
اس کا کرایہ؟اس کا بجلی کا بل؟اس کی بیماری؟اس کا مستقبل؟یہ سب کہاں ہے؟تعلیم کا نظام بچے کے مستقبل کی فکر کرتا ہے مگر استاد کے مستقبل سے لاتعلق ہو جائے تو یہ ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ کچھ پیف پارٹنرز اور فاؤنڈیشن کے سکولز نے باقاعدہ معاہدہ نامہ بنایا ہوا ہے جو کہ انگریزی میں ہوتا ہے اور تقرری یا دوران تقرری نفسیاتی ہتھکنڈے کے ذریعے سائن کروایا جاتا ہے ۔ جس میں استاد کے حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں ۔
معاہدہ اگر رضامندی کے نام پر مجبوری بن جائے.

ایسے معاہدے جن میں استاد کو بعض شرائط تسلیم کرنا پڑتی ہیں حتیٰ کہ کم معاوضے یا دیگر شرائط پر اعتراض نہ
کرنے کی شقیں بھی شامل ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔یہاں قانون اور اخلاق دونوں کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
کاغذ پر دستخط ہمیشہ حقیقی رضامندی نہیں ہوتے۔ایک نوجوان جس کے ہاتھ میں ڈگری ہو اور سامنے روزگار کے دروازے بند ہوں، اگر اسے کہا جائے۔
’’یہ شرائط ہیں منظور ہیں تو کام کرو، ورنہ اگلا امیدوار موجود ہے‘‘
تو اس دستخط کو محض قانونی رضامندی سمجھ لینا کافی نہیں۔
کیونکہ بے روزگاری بھی ایک دباؤ ہے۔غربت بھی ایک دباؤ ہے۔گھر کے اخراجات بھی ایک دباؤ ہیں اور جب ایک طرف طاقتور ادارہ ہو اور دوسری طرف ایک بے روزگار ڈگری ہولڈر تو دونوں کی bargaining power برابر نہیں ہوتی۔اسی لیے حکومت کو ایسے معاہدوں کی آزادانہ قانونی اور لیبر آڈٹ کرانی چاہیے۔اس مسئلے کا شاید سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض اساتذہ برسوں نہیں بلکہ دہائیوں سے ایسے اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بیس سال۔پچیس سال۔
ایک پوری جوانی۔ایک پوری زندگی۔

انسان ایک ادارے کو اپنی زندگی کے بہترین سال دے دیتا ہے لیکن اگر دو دہائیوں بعد بھی وہ بنیادی مالی تحفظ سے محروم ہو تو سوال صرف اسکول انتظامیہ سے نہیں بنتا۔ریاست سے بھی بنتا ہے۔کیونکہ تعلیم کو اگر حکومت نے نجی پارٹنرشپ کے ذریعے فراہم کرنے کا ماڈل اختیار کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو گئی۔ریاست کا کام صرف بچوں کو اسکول پہنچانا نہیں۔
استاد کو استحصال سے بچانا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔جب استاد کو نفسیاتی دباؤ میں رکھا جائے ۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جہاں کام کرنے والے انسان کی ذہنی کیفیت براہِ راست بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ایک پریشان استاد۔ایک خوف زدہ استاد۔ایک ایسا استاد جسے ہر وقت ملازمت ختم ہونے کا خطرہ ہو۔ایک ایسا استاد جسے تنخواہ کم ملتی ہو۔
ایک ایسا استاد جسے انتظامیہ کی طرف سے مسلسل دباؤ کا سامنا ہو۔
کیا وہ بچے کو ذہنی سکون، اعتماد اور تخلیقی آزادی دے سکتا ہے؟ادارہ استاد سے کہتا ہے ۔بچے کو محبت سے پڑھاؤ لیکن استاد خود خوف میں ہو تو؟ ادارہ کہتا ہے بچے کی شخصیت بناؤ لیکن استاد کی اپنی شخصیت مسلسل دباؤ میں ہو تو؟ادارہ کہتا ہے بچے کو خود اعتمادی دو لیکن استاد خود اپنی ملازمت کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو تو؟یہ تضاد ہماری تعلیمی پالیسی کے چہرے پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔افسر آتا ہے۔ وزٹ ہوتا ہے، رپورٹ بنتی ہے۔۔۔ پھر؟

پاکستانی نظام کا ایک عجیب المیہ ہے۔معائنہ ہوتا ہے۔افسر آتا ہےرجسٹر دیکھے جاتے ہیں۔بچے گنے جاتے ہیں۔عمارت دیکھی جاتی ہے۔کلاس روم دیکھے جاتے ہیں۔تصاویر بن جاتی ہیں۔رپورٹ تیار ہو جاتی ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے۔
کیا افسر نے کبھی اکیلے میں استاد سے پوچھا کہ ’’آپ کو کتنی تنخواہ ملتی ہے؟‘‘کیا کبھی بینک اسٹیٹمنٹ دیکھی گئی؟
کیا کبھی تنخواہ کی رسید اور اصل ادائیگی کا موازنہ کیا گیا؟کیا کبھی استاد سے انتظامیہ کی موجودگی کے بغیر بات کی گئی؟کیا کبھی یہ پوچھا گیا کہ
’’اگر آپ کو اپنے حقوق کے خلاف کوئی شکایت ہو تو آپ کس کے پاس جائیں گے؟‘‘
اگر جواب نہیں ہے تو پھر یہ مانیٹرنگ صرف عمارت کی مانیٹرنگ ہے تعلیم کی نہیں۔
اگر استاد یہ سب بتا بھی دے اور افسر کو معلوم بھی ہو تو کیا ہوسکتا ہے؟ سکول مالکان و انتظامیہ اور افسر اس بات پر معاہدہ کر لیتے ہیں کہ آپ کی بھی روزی روٹی ہے اور ہماری بھی آپ استاد کو ایسا سبق سکھائیں کہ باقی سٹاف آئندہ یہ جرات نہ کرے ۔

جنوبی پنجاب میں تعلیم، روزگار اور معاشی پسماندگی کے مسائل پہلے ہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ایسے علاقے میں اگر ایک نوجوان کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد استاد کی نوکری ملتی ہے تو وہ اسے صرف ملازمت نہیں سمجھتا۔وہ اسے عزت سمجھتا ہے۔وہ اسے معاشرے کی خدمت سمجھتا ہے۔وہ اسے اپنے مستقبل کا راستہ سمجھتا ہے لیکن اگر اسی استاد کو معمولی معاوضہ، کوئی واضح سروس اسٹرکچر نہیں، کوئی مراعات نہیں، مستقل مزاجی کا تحفظ نہیں اور شکایت کرنے کا مؤثر نظام بھی نہیں ملتا تو پھر ریاست کو یہ سوچنا ہوگا۔
ہم جنوبی پنجاب کے نوجوان کو تعلیم کی طرف راغب کر رہے ہیں یا اسے تعلیم سے بدظن کر رہے ہیں؟اگر تعلیم کاروبار بن گئی تو استاد مزدور کیوں نہیں؟یہ سوال بہت سخت ہے مگر ضروری ہے۔

اگر کوئی ادارہ تعلیم کے ذریعے مالی سرگرمی کر رہا ہے تو اسے کاروباری نظم و نسق کے اصول حاصل ہو سکتے ہیں لیکن جس شخص کے ذریعے وہ تعلیم دے رہا ہے، وہ انسان ہے۔اس کی محنت کی قیمت ہے۔اس کے وقت کی قیمت ہے۔اس کی قابلیت کی قیمت ہےاور سب سے بڑھ کر اس کی عزتِ نفس ہے۔
تعلیم کو اگر کاروباری ماڈل کے تحت چلایا جا رہا ہے تو کم از کم یہ اصول تو ہونا چاہیے کہ
بچت استاد کی تنخواہ سے نہ کی جائے۔
ایک ہی علاقے میں کئی ادارے اجرت کی ایک غیر اعلانیہ حد مقرر کر لیں۔
استاد کو ملازمت بچانے کے لیے کم تنخواہ قبول کرنا پڑے ۔ شکایت کرنے پر ملازمت ختم ہونے کا خوف ہو۔ نگرانی کا نظام صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو۔سرکاری فنڈنگ کے باوجود استاد کے مالی حقوق واضح نہ ہوں اور برسوں کام کرنے والے استاد کے لیے کوئی ترقی یا سروس اسٹرکچر نہ ہو وہاں استحصالی نظام کے پیدا ہونے کا خطرہ ضرور موجود ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو آنکھیں کھولنی چاہییں۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟اگر حکومت واقعی تعلیم کو ترجیح سمجھتی ہے تو صرف نئے اسکول کھولنا کافی نہیں۔اسے Teacher Protection Policy بنانی ہوگی۔
ہر پارٹنرشپ اسکول میں کم از کم تنخواہ مقرر کرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔
تنخواہ نقد نہیں، براہِ راست بینک اکاؤنٹ میں جائے لیکن اکاؤنٹ سے وہی کم تنخواہ ٹرانسفر کرکے استاد کا حق غصب کیا جارہا ہے ۔PEF خود 2026 میں پارٹنر/لائسنس یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کی ڈیجیٹل تنخواہ ادائیگی کے نظام کے لیے سروس حاصل کرنے کی طرف گیا ہے جو اس سمت میں ایک قابلِ ذکر قدم ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ اصل ادا شدہ رقم اور ریکارڈ شدہ رقم میں فرق کی گنجائش ختم کی جائے۔ ہر استاد کو Appointment Letter دیا جائے اس اصول پر کوئی بھی سکول عمل درآمد نہیں کرتا اس میں واضح ہو۔بنیادی تنخواہ ڈیوٹی اوقات،چھٹیاں ،اضافی کام،سالانہ اضافہ،ملازمت ختم کرنے کا طریقہ،شکایت کا طریقہ
انتظامیہ کے سامنے شکایت کرنے والا استاد اکثر اپنی ملازمت خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اس لیے شکایت کا confidential mechanism ہونا چاہیے۔
سالانہ Teacher Audit ہونا چاہیے۔Teacher Welfar Audit بھی ہونا چاہیے۔ دس، پندرہ، بیس سال سے کام کرنے والوں کے لیے سروس اسٹرکچر بنایا جائے۔کسی شخص کو دو دہائیاں کام کروا کر بھی ابتدائی سطح کی تنخواہ پر رکھنا انسانی اور انتظامی دونوں اعتبار سے ناقابلِ قبول ہونا چاہیے۔ہراسمنٹ کے خلاف آزادانہ نظام۔PEF کے اپنے FAQ میں بھی درج ہے کہ پارٹنر اسکول میں جنسی ہراسمنٹ کی شکایت ثابت ہونے کی صورت میں شراکت داری منسوخ ہونے تک کی کارروائی ہو سکتی ہے

لیکن سوال یہ ہے۔کیا ہر استاد کو معلوم ہے کہ شکایت کہاں کرنی ہے اور کیا اسے شکایت کرنے کے بعد انتقامی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے؟ استاد کو خیرات نہیں حق چاہیے۔سب سے اہم بات یہی ہے۔استاد کسی سے خیرات نہیں مانگ رہا۔
وہ اپنے وقت، علم اور محنت کی قیمت مانگ رہا ہے۔وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھے محل دے دو۔
وہ صرف یہ کہہ رہا ہے۔
میرے کام کی اتنی قیمت تو مقرر کرو کہ میں عزت کے ساتھ زندہ رہ سکوں۔
اگر ایک ڈگری ہولڈر نوجوان آٹھ، دس یا بارہ گھنٹے تعلیمی ادارے کو دیتا ہے اور بدلے میں اتنی رقم حاصل کرتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کر سکے تو مسئلہ صرف اس استاد کا نہیں۔یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ہم استاد سے قوم بنوانا چاہتے ہیں، مگر استاد کا گھر نہیں بنا رہے یہی پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ہم تقریروں میں استاد کو قوم کا معمار کہتے ہیں۔

ہم اسے پیغمبرانہ پیشہ کہتے ہیں۔ہم اس کے احترام میں الفاظ کے پہاڑ کھڑے کرتے ہیں لیکن جب اسی استاد کی تنخواہ کا وقت آتا ہے تو ہماری تمام تقریریں ختم ہو جاتی ہیں۔ کاغذ پر وہ معمار ہےعملی زندگی میں وہ کم تنخواہ دار ملازم۔
کاغذ پر وہ قوم کا مستقبل بناتا ہے۔حقیقت میں اپنے مستقبل کے لیے پریشان۔کاغذ پر تعلیم مقدس ہے۔عملی نظام میں استاد کی محنت سب سے سستی۔یہ تضاد کب تک چلے گا؟استاد کو بچائیے، تعلیم خود بچ جائے گی۔پاکستان کا تعلیمی بحران صرف یہ نہیں کہ اسکول کم ہیں کتابیں کم ہیں یا بچے اسکول سے باہر ہیں۔
ایک اور خاموش بحران بھی ہے۔استاد تعلیم کے شعبے سے مایوس ہو رہا ہے۔جس نوجوان نے ڈگری لے کر تدریس اختیار کی تھی وہ اب سوچ رہا ہے کہ اگر یہی اس پیشے کا صلہ ہے تو وہ کوئی دوسرا کام کیوں نہ کرےاور جب اچھے، قابل اور باصلاحیت نوجوان تدریس چھوڑ دیں گے تو نقصان صرف اس استاد کا نہیں ہوگا۔ایک پوری نسل کا ہوگا۔اس لیے حکومت کو PEF، PSRP، PIMA، CARE اور دیگر پارٹنرشپ و فاؤنڈیشن ماڈلز کا آزاد، شفاف اور جامع Teacher Welfare Audit کرانا چاہیے۔
یہ دیکھا جائے کہ سرکاری فنڈنگ کہاں جا رہی ہے۔
اس میں استاد کو کتنا مل رہا ہے۔کتنے گھنٹے کام لیا جا رہا ہے۔کس نوعیت کے معاہدے سائن کروائے جا رہے ہیں۔کیا قانونی کم از کم اجرت پوری ہو رہی ہے۔کیا برسوں سے کام کرنے والوں کے لیے کوئی سروس اسٹرکچر ہے۔کیا ہراسمنٹ کی شکایات کا مؤثر نظام ہے۔اور کیا مانیٹرنگ کرنے والا افسر صرف فائل و دیگر انسپکشن درست طریقے سے انجام دیتا ہے یا اداکاری کر کے اور سائن سٹیمپ لگا کر واپس آجاتا ہے اور اپنے اس ڈرامے کی رپورٹ کے پیسے حکومت سے تنخواہ کی صورت میں لیتا ہے کیونکہ اگر ہم نے اس سوال کا جواب نہ دیا تو کل ہمارے پاس اسکول تو ہوں گے۔ عمارتیں بھی ہوں گی۔ بچے بھی ہوں گے۔ فنڈز بھی ہوں گے۔ رپورٹس بھی ہوں گی۔مگر شاید وہ لوگ نہیں ہوں گے جو دل سے پڑھانا چاہتے تھے اور یاد رکھیے۔تعلیم کی عمارت اینٹوں سے نہیں، استاد سے بنتی ہے۔جس معاشرے میں استاد کی محنت سستی ہو جائے وہاں تعلیم مہنگی ہونے کے باوجود معیار میں غریب ہو جاتی ہے۔استاد کو اس کا حق دے دیجیئے کیونکہ جو ہاتھ قوم کے بچوں کا مستقبل لکھتے ہیں انہیں اپنے بچوں کا مستقبل مٹانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

More posts