پشاور ہائیکورٹ نے نویں جماعت کے طالب علم کو بیالوجی کے پرچے میں صفر نمبر دینے کے معاملے پر پشاور بورڈ کے چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
پشاور ہائیکورٹ میں پشاور بورڈ کی جانب سے نویں جماعت کے طالب علم کو بیالوجی کے امتحان میں صفر نمبر دیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت پشاور ایجوکیشن بورڈ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طالب علم کے بیالوجی کے پرچے کو غلط کوڈ نمبر دے دیا گیا تھا، جس کے باعث اسے صفر نمبر ملے۔ بورڈ کی جانب سے غلطی تسلیم کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ یہ تو وکیل کا بیٹا تھا جو معاملہ عدالت تک لے آیا اور حقیقت سامنے آگئی، لیکن ایسے کتنے ہی دوسرے طلبہ ہوں گے جن کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے اور وہ اپنی داد رسی کے لیے عدالت تک نہیں پہنچ سکتے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ بورڈ حکام بچوں کے مستقبل کے ساتھ کیوں کھیل رہے ہیں اور اس طرح کی غلطیوں کو معمول کیوں بنا لیا گیا ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ امتحانی نتائج میں معمولی غفلت بھی طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر سنگین اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ پشاور بورڈ میں ہزاروں طلبہ نے اپنے امتحانی نتائج اور پرچوں کی ری چیکنگ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔
عدالت نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ طالب علم کا بیالوجی کا پرچہ طلب کرلیا اور پشاور ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے متعلق معاملات میں غفلت برداشت نہیں کی جاسکتی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہی ایسے معاملات کی روک تھام اور نظام میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔
