دنیا ظلم و ستم کی آماج گاہ بن چکی ہے۔ یہاں ہر روز دل خراش واقعات رونما ہوتے ہیں۔ شاید ہم لوگوں نے اس صورتِ حال کو یا تو اپنے منشور میں شامل کر لیا ہے یا دستور میں۔ حالات و واقعات ہماری توجہ اس جانب مبذول کروا رہے ہیں کہ یہاں گھناؤنے جرائم کس تیزی کے ساتھ سرزد ہو رہے ہیں۔ اخبارات، جرائد اور رسائل کی سرخیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ظلم و ستم کی شرح بے لگام ہو چکی ہے۔ حالیہ چند برسوں میں نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ناپاک سوچوں نے پاکستان کی سرزمین کو جس طرح آلودہ کیا ہے، اس کی مٹی بھی چیخ چیخ کر انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے کہ مجھ پر ظلم و ستم بند کرو۔ تم لوگوں نے زمین پر جس قدر خون کی ندیاں بہائی ہیں، میں انہیں پی پی کر سیراب ہو چکی ہوں۔ اب مجھ میں سکت نہیں رہی کہ میں اسے مزید ہضم کر سکوں۔
میں روزِ اوّل سے ہی دل خراش واقعات کی تھرتھراہٹ سن رہی ہوں اور خندہ پیشانی سے انہیں برداشت کر رہی ہوں۔ اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود بھی حضرتِ انسان نہ تو گناہ سے باز آیا اور نہ ہی اس نے اپنی بے حسی کو ترک کیا۔ اگر ہم گرد و پیش کے حالات و واقعات اور تعمیر و ترقی کا جائزہ لیں تو ہم پر یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ دنیا میں جیسے جیسے ترقی کے خواب پورے ہوئے ہیں، اسی شدت سے جرائم میں بھی تواتر و تسلسل کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔
زنا کاری، حرام کاری، شہوت پرستی، نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور دیگر اخلاقی جرائم نے جس قدر حیوانی صورت اختیار کر لی ہے، اس کے مظاہر پاکستان کی سرزمین پر بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ اور سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ حیوانیت کے ایسے دردناک قصے سامنے آتے ہیں جو قلب و ذہن پر سوگ کی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔ زبان خاموش ہو جاتی ہے، ہاتھ پاؤں میں اعصابی لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور دل غم سے نڈھال ہو جاتا ہے۔ ذرا سوچیں! جب کسی ماحول اور معاشرے میں ایسے ناقابلِ فراموش واقعات رونما ہوں گے جہاں انسانیت ایک سوالیہ نشان بن جائے اور ایمان و اخلاقیات شرمندہ ہو جائیں تو وہاں زندگی کا حقیقی مقصد بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔
اس دنیا میں مصنوعی پن اس قدر بڑھ چکا ہے کہ انسان اپنے حقیقی مقصد کو بھول کر دنیاوی خواہشات میں گرفتار ہو گیا ہے۔ جنسی لذت کی اندھی خواہش نے بہت سے لوگوں کو اخلاقی حدود سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اردگرد ایسے جنسی درندوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو اپنی ہوس کا نشانہ معصوم اور کم سن بچیوں کو بھی بنا لیتے ہیں۔ اِف توبہ! یہ کیسا سماج ہے جہاں معصوم بچیوں کی عصمت اور زندگی بھی محفوظ نہیں؟
بے حیائی اور فحاشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات بھی معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ فحش مواد تک آسان رسائی، غیر اخلاقی مواد دیکھنے کی عادت اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کا غیر محتاط استعمال دل و دماغ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر والدین بچوں کی سرگرمیوں سے بے خبر رہیں اور تربیت کے ساتھ نگرانی کا نظام قائم نہ کریں تو جرائم پیشہ عناصر معصوم ذہنوں اور کم عمری کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور ان کے آن لائن روابط پر مناسب توجہ دی جائے۔
یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ عصرِ حاضر میں بچوں سے لے کر بڑوں تک ہر سطح پر اخلاقی انحطاط کے مختلف مظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی ہو یا حال، معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی انسانیت پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جسے تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار کیا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ یہ وقت کی سزا ہے یا ہمارے اعمال کا ثمر؟ سوال بہت سے ہیں مگر جواب ایک ہی ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہو گا۔
خدارا! وقت چیخ چیخ کر ہماری توجہ مبذول کروا رہا ہے کہ بچوں کو ہر شخص کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔ اجنبی افراد سے محتاط رہیں اور بچوں کو یہ سکھائیں کہ کسی بھی مشکوک شخص کے ساتھ تنہائی میں نہ جائیں۔ بچوں کو موبائل اور آن لائن دوستیوں کے خطرات سے آگاہ کریں۔ انہیں یہ اعتماد دیں کہ اگر کوئی شخص انہیں خوف زدہ کرے، کسی راز کو چھپانے پر مجبور کرے یا نامناسب رویہ اختیار کرے تو وہ بلا خوف اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد فرد کو ضرور بتائیں۔ اپنے گھر کے آس پاس مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی خطرناک صورتِ حال کو نظر انداز نہ کریں۔
کہتے ہیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ ان کی حفاظت کرنا ہم سب کا اخلاقی اور انسانی فرض ہے تاکہ معاشرے میں جرائم کی شرح کم ہو اور ہماری بیٹیاں خوف کے سائے میں زندگی گزارنے کے بجائے اعتماد اور تحفظ کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ اگرچہ معاشرے میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں لیکن ہماری بصیرت اتنی ضرور ہونی چاہیے کہ ہم خطرے کی علامات کو پہچان سکیں۔ جس طرح انسان کھرے اور کھوٹے کی پہچان کرتا ہے، بالکل اسی طرح اچھے اور برے رویوں میں فرق کرنا بھی سیکھنا ہو گا۔ یہی شعور ہمارے خاندانوں کو بہت سے خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
دراصل ہماری فطرت کے اندر سب سے بڑا بگاڑ یہ پیدا ہوا ہے کہ ہم نے روحانی اور اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انسان مادیت کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کی آنکھوں میں دولت کے خواب ہیں، گھریلو آسائشوں کی خواہش ہے، شہرت کی طلب ہے اور راتوں رات دولت مند ہونے کی تمنائیں ہیں۔ وہ دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اپنے بنیادی انسانی اور اخلاقی فرائض کو فراموش کرتا جا رہا ہے۔ خود نمائی، جلد بازی اور خود غرضی جیسے عناصر نے معاشرتی رویوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
آئیے! وقت، حالات اور معاشرے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی بچیوں کی حفاظت کرنا سیکھیں۔ انہیں خوف زدہ کرنے کے بجائے بااعتماد بنائیں۔ انہیں خاموش رہنے کے بجائے خطرے کے خلاف آواز اٹھانا سکھائیں۔ انہیں اچھے اور برے لمس کا فرق سمجھائیں اور یہ یقین دلائیں کہ کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اگر ان کے ساتھ نامناسب سلوک کرے تو انہیں فوراً اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد فرد کو بتانا چاہیے۔
چوں کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ اندھا دھند اعتماد بعض اوقات ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اعتماد کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔ بیٹیاں صرف ایک گھر کی نہیں ہوتیں، وہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہیں۔ ان کی عزت، تحفظ اور مستقبل کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ آئیے! اپنی بیٹیوں کو صرف گھر کی چار دیواری میں محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں شعور، اعتماد، احتیاط اور اپنے دفاع کی صلاحیت بھی عطا کریں تاکہ وہ ایک محفوظ اور باوقار معاشرے میں زندگی گزار سکیں۔
