Baaghi TV

گجرات کا جوہری و نگینہ رائے فصیح اللہ جرال ،تحریر: زین سلیم جاجووال

سرزمین گجرات سخنورں کی بستی اپنے دامن میں گوہر نایاب ہے گجرات جو روز اول سے ہی بے شمار ادبی شخصیات کا مسکن رہا ہے ہر دور میں گجرات ادبی حوالے سے نثرنگاری ہو تاریخ نویسی ہو یا پھر شاعری یہ خطہ ہمیشہ سے ہی شاداب رہا ہے اسی بستی گجرات میں ایک جوہری ایک نگینہ رائے فصیح اللہ جرال نثر نگاری، تذکرہ نویسی اور تاریخ نویسی کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ جوہری و نگینہ جرال خاندان کا سپوت اپنے ادبی حلقہ میں نہ صرف گجرات میں بلکہ پنجاب بھر کے دور دراز علاقوں میں کتاب دوستی کتب بینی کے خؤالے سے جانا جاتا ہے۔ رائے فصیح اللہ جرال تیکھے نین نقش باوقار شخصیت کا حسین عکس جو آنکھوں میں اعتماد کی چمک لیے ھے اور نگاہ میں فطری وقار جھلکتا نوجوان کسی کو بھی اپنئ مسکراہٹ سے متاثر کر سکتا ہے طبیعت میں تلاطم پن جو ہر وقت کسی نہ کھوج تاریخ شناسی اور تاریخ کی جستجو اور کھوج مگن رہتا ھے جس کے چہرے پر ہنسی اور شرارت کے تاثرات جو ہر ایک محفل میں خوبصورت الفاط اور قہقہوں کی گھونج محفل میں رنگ بھرتے ہوئۓ نظر آئۓ گا۔

آج دسمبر کی سرد صبح آنکھ کھلی شیڈول پر نظر گئی اور دفتری کام نہ ہونے کی وجہ سے سے فصیح سے رابطہ ہوا کہ گجرات آپ کی طرف آ رہا ہوں تو کسی مقام پر بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں تو فصیح بھائی کی جانب سے شیرانی مرکز تحقیق و اشاعت کے کتب خانے میں نشست رکھنے اور وہاں پر چائے پر مدعو کیا۔ جہاں پر چائے کی مٹھاس اور کتابوں کی مہک ہو وہاں کیسے کوئی اس نشست کو منع کر سکتا ہے تو بغیر کسی دیر کے بندہ نا چیز رائے فصیح اللہ جرال کے کتب خانہ میں پہنچ گیا جہاں سب سے پہلے چائے کے ساتھ کئی قسم کے لوازمات پیش کیے گئے چائے کے ساتھ گپ شپ کا سلسلہ جاری تھا کہ چند دیر بعد گجرات کے ادبی ستارے احسان فیصل کنجائی یاور عباس صاحب اور منیر چشتی صاحب تشریف لائے جن کے ساتھ فصیح کی معاونت میں کھانے کی ٹیبل پر گفتگو اور تقریب کی روداد سنی اور آخر میں چائے پینے کے بعد احسان فیصل کنجائی یاور عباس صاحب اور منیر چشتی صاحب روانہ ہوئے تو ہم دوبارہ شیرانی مرکز و تحقیق فصیح اللہ جرال کے کتب خانے میں تشریف لے گئے۔۔۔۔
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں
اب ہم چائے اور کتب کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری ہو گیا جہاں ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ نویسی اور بے شمار ادبی شخصیات کی کتب پر تبصرے کیے۔

شرانی کتب مرکز و تحقیق گجرات میں گہرے دریا کی مانند ہے جہاں غوطہ زن ہو کر ادب فلسفہ اور تاریخ کے گہرے الفاظ میں کب شام ہو جائے پتہ ہی نہ چلے اس خوبصورت نشست میں رائے فصیح اللہ جرال کے قیمتی خزانے کا دیدار کیا جن میں 1802 سے 1812، 1908 ،1912 ،1934 کی قیمتی مجلے دیکھنے کو ملے اور اس کے ساتھ ساتھ قلمی نسخہ بھی دیکھنے کو ملے لاکھوں کی مالیت رکھنے والے مجلے اور نایاب کتب کا دیدار اور خوشبو نے فصیح بھائی کی کتب بینی سے محبت کا احساس دلایا اور نایاب اور قدیم خطوط دیکھنے کو ملے جو ان کے آباو اجداد کو مہاراجہ ہری سنگھ نے لکھے یہ سب دیکھنے کے بعد یہ احساس دلایا کہ اپنے اباؤ اجداد کا خزانہ ایسے جان کے ساتھ لگا کر رکھتے ہیں۔ ہماری گفتگو کے درمیان موضوع سخن ادبی شخصیات میں شریف کنجائی غنیمت کنجائی ن م راشد غالب احمد قاسمی اور اس کے علاوہ عالمی ادب کے مصنفین کو موضوع سخن بنایا اور دور حاضر میں کلیم احسان بٹ صاحب کی کتب اور ان پر تبصرہ ہوا۔
میں نے جب سے مطالعہ کو زینت بنایا تب سے اردو ادب کے بڑے بڑے ناولوں کتابوں میں نامور شخصیات کے رسالؤں اور انکے مجلے جن کا نام سن رکھا تھا لیکن اج پہلی دفعہ انہیں شرانی مرکز و تحقیق کے سرپرست فصیح اللہ جرال کے کتب خانے میں دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

ان قدیم اور نایاب چیزوں میں سے انگریز گزٹ قلمی نسخے سکھی سلطنت کے خطوط انگریز دور کے گزٹ مغلیہ سلطنت کے نایاب خطوطو چاندی کے اوراق میں درج قلمی نسخے اور خط 12 بارویں ہجری کی نایاب کتب اور فارسی میں درج قلمی نسخے یہ تمام خزانہ ایک جوہری ایک نگینہ فصیح جرال شیرانی مرکز تحقیق گجرات میں لیے بیٹھا ہے۔
فصیح بھائی کتب بینی سے شوق اور محبت اس بات کی دلیل ہے کہ کتب بینی اور کتاب آنے والی صدی میں محفوظ ہاتھوں میں ہے ان قلمی نسخوں اور قدیم کتب میں سے دو چند نسخے ہمیں بھی عنایت ہوۓ جن نسخہوں کا دیدار ہوا ان میں پریت لڑی،الحلال، لہراں، مخزن، پنجابی ادب ملٹری گزٹ, آستانہ, اردو ادب کا علمی ادبی رسالہ ھمایوں، نصرت، سسی دا دکھ قلمی نسخہ، جگدیپش، القادر نوشاہی، جگت مہرشی، آستانہ، علم العقاد پنچابی، گجرات بعہد قدیم و جدید، امروز کے رسالے، فخر زمان صاحب کے رسالے، نصرت رسالہ درویش اور بے شمار قیمتی اثاثہ موجود ہے اور ان سب میں نایاب خطوط ہری سنگھ اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کے بھی شامل ہیں
ان قلمی نسخے کے دیدار کے علاوہ فصیح کی جانب بے شمار کتب عنایت ہوئی کہتے ہیں کہ دریائے میں جب ایک قطرے کے حصول کے لیے جایا جائے تو اس میں صرف ایک قطرہ ہی نکالنا چاہیے نہ کہ قطرے کی بجائے ایک کنواں اور پھر کنویں سے ایک چشمہ یا آبشار نکال لیں ایسا ہر گز نہیں اور آج ہم نے بھی شیرانی مرکز و تحقیق سے ایک قطرے کی بجائے ایک آبشار چشمہ نہری صورت میں نکال کر اپنے کتب خانہ جاجوال میں لے ائے ہیں جس میں 50 سے زائد کتب جن میں فلسفہ تاریخ ادب ناول شاعری اور بے شمار تاریخی کتب اور نایاب کتب شامل ہے فصیح بھائی کی محبت اس بات کی دلیل ہے کہ آج انہوں نے نہ صرف نایاب کتب عنایت کی بلکہ لاکھوں کی مالیت کی کتب عنایت کر کے اپنا قرضدار اور گرویدہ بنا لیا ہے شیرانی تحقیق و مرکز کا یہ شدائی فصیح اللہ جرال گجرات میں کتب بینی کو فروغ دینے میں سرگرداں ھے شیرانی مرکز و تحقیق کا یہ شدائی نہ صرف کتاب کو شائع کرتا ہے بلکہ قائرین تک بغیر کسی رقم کسی لالچ کے ان تک پہنچاتا اھے راۓ فصیح اللہ جرال نے گجرات میں ادب کو فروغ دینے کی ایک نئی روایت قائم کی ہۓ ہم اس بات پر شرانی مرکز و تحقیق اور اس کے ممبران کو اور خصوصا رائے فصیح اللہ جرال کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس کے لیے دعا گو ہیں کہ ائندہ بھی ادب کی خدمات میں سرگرداں رہے اور ادب کی خدمات کرتا رہے۔
زین سلیم جاجووال

More posts