Baaghi TV

سانحہ پمز،ماؤں کی چیخیں،انتظامی بے حسی،ذمہ دار کون،تحریر:طارق نوید سندھو

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سرکاری ہسپتال پمز میں لگی آگ سے 14 نومولود بچے دنیا سے رخصت ہو گئے،سانحہ پمز کے بعد ماؤں کی چیخیں نہ صرف دنیا نے سنیں بلکہ حکومتی بے حسی بھی دیکھنے کو ملی،کبھی کبھی کوئی سانحہ ایسا ہوتا ہے جوپورے معاشرے کے ضمیر پر ایک ایسا سوال لکھ جاتا ہے جس کا جواب برسوں تک تلاش کیا جاتا رہتا ہے۔ پمز ہسپتال کی نرسری میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سانحہ بھی ایسا ہی ایک سوال ہے، یہ ان ماؤں کی چیخوں، ان باپوں کی بے بسی اور ان ننھی جانوں کی خاموش موت کی داستان ہے جنہوں نے ابھی دنیا کو دیکھا بھی نہ تھا۔

وہ بچے جن کے لیے ماؤں نے مہینوں دعائیں مانگی تھیں، جنہیں اپنی بانہوں میں لینے کے خواب سجائے تھے، جن کے ننھے ہاتھوں کی انگلیاں تھامنے کے لیے باپ بے تاب تھے، وہ اچانک شعلوں اور دھوئیں کے درمیان زندگی کی جنگ ہار گئے،ہسپتال کی نرسری میں جہاں زندگی کو تحفظ ملنا چاہیے تھا، وہاں موت نے ڈیرے ڈال دیے۔ ماں کے لیے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ جس ہسپتال میں وہ اپنی اولاد کو محفوظ سمجھ کر چھوڑتی ہے، وہیں سے اسے اپنے بچے کی لاش ملے؟یہ تصور ہی روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے کہ کسی ماں نے شاید اپنے نومولود کو آخری مرتبہ دیکھنے کی امید میں وارڈ کی طرف دوڑنے کی کوشش کی ہو، مگر راستے بند ہوں، دروازے بند ہوں، دھواں پھیلا ہو اور ہر طرف چیخ و پکار ہو، ایک ماں کی چیخ اس کے وجود کے ٹوٹ جانے کی آواز ہوتی ہے۔ جس بچے کو اس نے نو ماہ اپنے وجود میں سنبھالا ہو، اس کی جدائی کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

پمز کی نرسری میں 15 بچے تھے، جن میں سے 14 جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچے کو ریسکیو کیا گیا،رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہنگامی اخراج کے راستے بند اور رکاوٹوں کا شکار تھے اور فائر و لائف سیفٹی انتظامات ناکافی پائے گئے، سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد زندگی بچانے کے لیے کیا کیا گیا؟ کیا ہر ہسپتال میں فائر سیفٹی کا نظام صرف کاغذوں میں موجود ہے؟ کیا ایمرجنسی ایگزٹ محض نقشوں کا حصہ ہیں؟ کیا فائر ڈرل، عملے کی تربیت اور ہنگامی منصوبہ بندی کو صرف فائلوں میں مکمل سمجھ لیا جاتا ہے؟اگر ایک نرسری میں جہاں ننھے بچے خود چل نہیں سکتے، بول نہیں سکتے، خطرے کو سمجھ نہیں سکتے اور مدد کے لیے کسی بڑے کے محتاج ہیں، وہاں ہنگامی راستے بند ہوں تو یہ انتہائی سنگین سوال ،سنگین غفلت،مجرمانہ کوتاہی ہے۔ ان بچوں کی زندگی کسی حادثے کی ذمہ داری نہیں تھی، ان کی حفاظت ایک ادارے، انتظامیہ اور ریاست کی ذمہ داری تھی۔

سانحے کے بعد مختلف بیانات سامنے آئے۔ کہیں شارٹ سرکٹ کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا، کہیں اے سی بلاسٹ اور آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ کے شدت اختیار کرنے کی بات سامنے آئی، جبکہ سی ڈی اے کی رپورٹ میں بجلی کے شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈنگ کو ممکنہ سبب بتایا گیا۔ حتمی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات کا عمل جاری بتایا گیا۔لیکن وجہ جو بھی ہو، ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے، آگ کسی بھی وجہ سے لگ سکتی ہے، مگر ایک محفوظ ہسپتال میں آگ کے بعد اتنی بڑی تعداد میں ننھی جانوں کا ضیاع روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات موجود ہونے چاہئیں۔

اور پھر ان ماؤں کا کیا جن کے سینوں میں دودھ اتر چکا تھا مگر گود خالی ہوگئی؟ ان باپوں کا کیا جنہوں نے اپنے بچے کا نام سوچ رکھا تھا؟ ان خاندانوں کا کیا جنہوں نے ایک نئی زندگی کی آمد پر خوشیاں منانے کے خواب دیکھے تھے؟ایک نومولود کی موت ایک پورے خاندان کے مستقبل میں پڑنے والا ایسا خلا ہے جسے وقت بھی مکمل طور پر نہیں بھر سکتا۔اس سانحے کے بعد تحقیقاتی کمیٹیوں کے قیام، ذمہ داروں کے تعین اور کارروائی کے اعلانات سامنے آئے۔ وزیراعظم نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین اور سخت کارروائی کی ہدایت کی،مگر قوم تحقیقات کے نام پر صرف کاروائی نہیں چاہتی، متاثرہ خاندان صرف ایک اور تعزیتی بیان نہیں چاہتے۔ انہیں جواب چاہیے۔ انہیں یہ معلوم کرنے کا حق ہے کہ ان کے بچوں کو وہ تحفظ کیوں نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ اگر کہیں غفلت ہوئی تو کس کی ہوئی؟ اگر حفاظتی انتظامات ناکافی تھے تو کس نے انہیں نظرانداز کیا؟ اگر ہنگامی راستے بند تھے تو انہیں کھولنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟ اگر کسی مرحلے پر ریسکیو کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

سی ڈی اے کی رپورٹ میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی قرار دینے، ہنگامی راستوں کے باہر سے لاک اور رکاوٹوں کا شکار ہونے اور سیکیورٹی عملے کی جانب سے ابتدائی فائر رسپانس میں رکاوٹ پیدا ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے،ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کی حفاظت بھی ہے۔ خاص طور پر نرسری اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں جہاں بچے اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتے، وہاں حفاظتی نظام میں معمولی سی کمزوری بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا ہمارے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں انتظامی معاملات واقعی پیشہ ورانہ انداز میں چلائے جا رہے ہیں؟ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ سرکاری ہسپتال میں آنے والا ہر مریض ریاست پر اعتماد کرکے آتا ہے۔ غریب کا بچہ ہو یا امیر کا، نومولود ہو یا بوڑھا، ہر زندگی برابر قیمتی ہے۔ ریاست کی اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ ایک عام شہری اپنے بچے کو ہسپتال لے جائے تو اسے یقین ہو کہ وہاں اس کے بچے کی جان محفوظ ہے۔

آج اگر ہم نے اس واقعے کو چند دن کی خبر سمجھ کر بھلا دیا تو کل کسی اور ہسپتال میں کسی اور ماں کی گود اجڑ سکتی ہے۔ اس لیے ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹس، الارم سسٹم، آکسیجن لائنز، بجلی کے نظام، فائر ڈرلز اور عملے کی تربیت کا فوری اور غیر جانب دارانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔کیونکہ کسی ماں کی گود حکومتی غفلت کی قیمت نہیں بن سکتی،وہ ننھی جانیں اب واپس نہیں آئیں گی۔ ان کے کھلونے شاید آج بھی گھروں میں رکھے ہوں گے، ان کے نام شاید والدین کے ذہنوں میں گونجتے ہوں گے، ان کے لیے خریدے گئے چھوٹے کپڑے شاید کسی صندوق میں پڑے ہوں گے۔ مگر وہ بچے نہیں ہوں گے جنہیں پہنایا جاتا۔اور شاید یہی اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو ہے،چودہ ننھی سانسیں خاموش ہوگئیں، مگر ان کی خاموشی ایک بہت بلند سوال بن گئی ہے۔آخر ان بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی تھی؟جب تک اس سوال کا غیر جانب دار، شفاف اور تسلی بخش جواب نہیں ملتا، پمز کی وہ نرسری ہماری اجتماعی بے حسی، انتظامی غفلت اور حکومتی ذمہ داریوں کا آئینہ بنی رہے گی،

خدا ان معصوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے والدین کو صبر عطا کرے، اور ہمارے نظام کو اتنا احساس دے کہ آئندہ کسی ماں کو اپنے بچے کی زندگی کے لیے ہسپتال کی دیواروں کے اندر چیخنا نہ پڑے.

More posts