Baaghi TV

ربیع الاول ، مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا،تحریر: زینب جہانزیب

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان پوری زندگی ایک ایسے شہر کی تلاش میں رہتا ہے جہاں پہنچ کر اُس کا دل آخرکار خاموش ہو جائے۔ ایک ایسی جگہ جہاں اسے اپنے ہونے کی وضاحت نہ دینی پڑے، جہاں وہ اپنی تھکن اتار سکے، جہاں اسے یہ خوف نہ ہو کہ کوئی اسے سمجھ نہیں رہا۔ شاید اسی لیے بعض جگہیں صرف جگہیں نہیں رہتیں، وہ انسان کے اندر ایک کیفیت بن جاتی ہیں۔

مدینہ کا نام آتے ہی میرے دل میں بھی ایک ایسی ہی کیفیت اترتی ہے۔ ایک شہر، مگر صرف شہر نہیں۔ ایک نسبت، ایک سکون، ایک یاد، ایک ایسی سمت جس کی طرف انسان جسم سے پہلے اپنے دل کو لے جانا چاہتا ہے۔ مگر کبھی سوچتی ہوں کہ اگر مدینہ صرف پہنچنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، تو پھر وہ کیفیت ہمارے اندر کب پیدا ہوتی ہے؟
شاید اُس وقت جب انسان کے اندر شور کم ہونے لگتا ہے۔
ہم سکون کو ہمیشہ باہر تلاش کرتے ہیں۔ کوئی جگہ بدلتے ہیں، لوگوں سے فاصلے بناتے ہیں، مصروفیات کم کرتے ہیں، خود کو نئے راستوں میں الجھاتے ہیں، مگر کبھی اپنے اندر کے اُس شور کو نہیں دیکھتے جو ہر جگہ ہمارے ساتھ سفر کرتا ہے۔ ہم دنیا سے دور ہو سکتے ہیں، مگر اپنے خیالات سے کہاں جائیں گے؟
مدینہ شاید اسی لیے میرے لیے ایک سوال بھی ہے: کیا میں اُس سکون کے لیے تیار ہوں جس کی تلاش میں ہوں؟
کیونکہ سکون صرف یہ نہیں کہ زندگی میں مشکلات نہ ہوں۔ سکون شاید یہ ہے کہ مشکلات کے درمیان بھی دل اپنے مرکز کو نہ بھولے۔ انسان کے پاس بہت کچھ ہو یا بہت کم، لوگ اُس کے ساتھ ہوں یا اُس سے دور، راستہ واضح ہو یا دھندلا—پھر بھی اُس کے اندر ایک ایسی جگہ باقی رہے جہاں وہ خود کو بکھرنے نہ دے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ باہر سے تھکے ہوئے نہیں ہوتے، اندر سے تھکے ہوتے ہیں۔ ہر وقت کچھ ثابت کرتے کرتے، سب کو خوش کرتے کرتے، ہر تعلق کو بچاتے بچاتے، ہر سوال کا جواب دیتے دیتے، انسان کبھی کبھی اپنے ہی دل سے دور ہو جاتا ہے۔ اور شاید مدینہ کی نسبت ہمیں اسی دل کی طرف واپس بلاتی ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد مدینہ صرف ایک نئی منزل نہیں تھا؛ وہ ایک ایسی بستی بنی جہاں ایک معاشرہ محبت، مواخات، ذمہ داری اور باہمی تعلق کی بنیاد پر تشکیل پاتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ خیال مجھے ہمیشہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک جگہ کی اصل خوبصورتی اُس کی عمارتوں سے نہیں، اُس میں بسنے والے دلوں سے بنتی ہے۔

تو پھر ہمارے اپنے گھر کیسے ہیں؟ ہمارے تعلقات کیسے ہیں؟ ہم جن لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں، کیا اُن کے لیے ہمارے قریب رہنا آسان ہے؟ کیا ہمارے الفاظ میں ایسی جگہ ہے جہاں دوسرا اپنی تھکن رکھ سکے؟ کیا ہمارے رویے میں اتنی گنجائش ہے کہ کوئی اپنی کمزوری چھپا کر نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ ہمارے سامنے آ سکے؟
شاید ہم سب اپنے اپنے چھوٹے سے مدینے کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ کسی کے لیے آسانی بن کر۔ کسی کی بات بغیر فیصلہ سنائے سن کر۔ کسی کے دکھ کو معمولی نہ سمجھ کر۔ کسی کو اُس کی غلطی سے زیادہ اُس کی انسانیت سے دیکھ کر۔ کسی ایسے شخص کے لیے جگہ بنا کر جس کے پاس دنیا میں پہلے ہی بہت کم جگہ باقی ہو۔
کیونکہ شاید مقدس نسبتوں کا سب سے خوبصورت اثر یہی ہے کہ انسان اُن سے وابستہ ہو کر دوسروں کے لیے بھی سکون کا سبب بننے لگے۔

اور پھر مجھے لگتا ہے کہ مدینہ جانے کی خواہش صرف قدموں کی خواہش نہیں رہتی۔ یہ دل کی ایک خواہش بن جاتی ہے کہ کاش میرے اندر بھی ایسی جگہ بن جائے جہاں نفرت زیادہ دیر نہ ٹھہرے، جہاں انا کو بیٹھنے کے لیے زیادہ جگہ نہ ملے، جہاں محبت صرف لفظ نہ ہو بلکہ رویہ بن جائے، جہاں کسی کے آنے سے دل تنگ نہ ہو بلکہ کشادہ ہو جائے۔
شاید ہر شخص کو اپنی زندگی میں ایک مدینہ چاہیے۔ ایک ایسی جگہ جو نقشے پر نہیں، دل کے اندر بنتی ہے۔
اور شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہم مدینہ سے کتنے فاصلے پر ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ مدینہ کی اُس کیفیت سے ہمارے دل کتنے قریب ہیں جسے ہم اپنے اندر محسوس کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔

More posts