پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے سانحے کو محض حادثہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مقررہ حفاظتی انتظامات کہاں تھے، اس کا جواب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افسوسناک سانحات کی روک تھام کے لیے ذمہ داروں کا احتساب ناگزیر ہے اور متعلقہ وزیر کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے۔
شیری رحمان نے وفاقی وزیر صحت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بجائے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے زیرانتظام اسپتالوں میں کیا صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں میں کیا ہورہا ہے، اس پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنے اسپتالوں کے انتظامات بہتر کیے جائیں، کیونکہ وفاقی وزارت صحت کے پاس اسلام آباد میں دو بڑے اسپتال ہیں اور ان کی ذمہ داری بھی پوری کرنا ضروری ہے۔
پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں گورننس درست انداز میں چلتی نظر نہیں آرہی۔ اگر وفاقی حکام اسلام آباد کے صرف دو بڑے اسپتالوں کو بھی مناسب طریقے سے نہیں سنبھال سکتے تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
نیر بخاری نے کہا کہ صرف سیکریٹری صحت کو معطل کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ واقعے میں غفلت کے ذمہ دار ہر فرد کا تعین ہونا چاہیے۔ چاہے ذمہ داری وفاقی وزیر پر عائد ہوتی ہو، پمز انتظامیہ پر یا کسی اور متعلقہ افسر پر، مکمل اور شفاف احتساب ضروری ہے۔
