نظم
ہارڈی کے کردار ہیں سارے
اوپر نیچے دائیں بائیں
ہارڈی کون ہے کچھ تو بولو؟
ہارڈی ایک کنوارہ بابو
جس نے سب تھیٹر یہ لگایا
کچھ کو ہنسایا کچھ کو رلایا
یہ دنیا کہ وہ دنیا سب
بابو کی کٹھ پتلیاں ہیں
ڈور ہے اس کے ہاتھوں میں
سارے ناچے ناچتے ہیں
اک کسینو دنیاداری
سب نے جس میں بازی ہاری
بعد میں سب پچھتاتے ہیں
جھوٹ کا طوطی گاتا ہے
سب کو خوش کر جاتا ہے
دھوم ہے باطل باجے کی
اک فریبی بابے کی
رشتے ناطے توڑتا ہے
گھر بے گھر کر چھوڑتا ہے
باپ سے بچوں کو لڑوائے
بیوی سے خاوند الجھانے
بھائی سے بھائی لڑوائے
الٹا سیدھا ناچ نچوائے
دنیا کو دوزخ یہ بنائے
صفدر بھٹی
