Baaghi TV

نعمتوں کا شکر کیا ہے؟،تحریر: مبراء عبدالقیوم

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زندگی، صحت، عقل، ایمان، والدین، اولاد، رزق، امن، محبت، علم اور ہدایت یہ سب اللہ تعالی کی بہترین عظیم نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کی اتنی کثرت ہے کہ انسان چاہے بھی تو ان کا مکمل شمار نہیں کر سکتا ہے۔ قران مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
"اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے” (سورۃابراہیم-34)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا ہر لمحہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ” ہی کہنا نہیں ہے، بلکہ دل سے یہ یقین رکھنا ہے کہ تمام نعمتیں اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ زبان سے اس کی تعریف کرنا اور ان نعمتوں کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا بھی شکر ہے۔ اگر اللہ نے ہمیں علم دیا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم کو دوسروں کے لیے استعمال کریں۔ اگر مال دیا ہے تو اس میں ضرورت مندوں اور غریبوں کا بھی حق ادا کریں۔ اگر صحت دی ہے تو عبادت، محنت اور خدمت خلق میں استعمال کریں۔ یہی حقیقی شکر گزاری ہے۔

شکر گزار بندہ ہر وقت پرسکون اور مطمئن رہتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کی نعمتوں پر حسد کرنے کی بجائے اپنی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کی حکمت پر راضی اور مشکلات میں صبر کے ساتھ اللہ ہی پر یقین اور توکل رکھتا ہے۔ جو شخص نعمتوں کی قدر نہیں کرتا، وہ اکثر ان کے چھن جانے کے بعد ان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ اللہ تعالی نے شکر گزار بندوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ قران پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا” (سورۃابراہیم-7)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں ہے، بلکہ نعمتوں میں اضافے، رزق میں برکت اور دل کے سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے مسلمان کو خوشی اور غم، آسانی اور تنگی ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی عملی زندگی سے شکر کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام ذنوب کی مغفرت فرما دی ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
"يَا عَائِشَةُ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا”
"اے عائشہ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”
صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الفتح، حدیث نمبر 4837
اور ایک دوسری روایت میں صحیح البخاری، کتاب التہجد، حدیث نمبر 1130۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت، اطاعت اور نیکی کے کام شکر کی بہترین صورتیں ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ اپنی زندگی میں موجود نعمتوں پر غور کریں۔ پانچ وقت نماز ادا کریں، سچ بولیں، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور ہر نعمت کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کریں۔ زبان سے "الحمدللہ” کہنا، دل میں عاجزی پیدا کرنا اور عملی طور پر نیکی اختیار کرنا شکر کے اہم تقاضے ہیں۔ شکر ایک عظیم عبادت اور بہترین اخلاقی صفت اور کامیاب زندگی کا راز ہے۔ جو شخص اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر ان کی قدر کرتا ہے، اور انہیں اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرتا ہے، اللہ تعالی اس کو مزید رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ شکر گزار بندے کے دل کو سکون عطا کرتا ہے، اور دنیا و آخرت کی بھلائی اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کی وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے اور اپنے کردار و اعمال سے حقیقی شکر گزاری، نیکی اور خدمت خلق کا نمونہ بنے۔

More posts