کچھ روز قبل رات جب صبح کے نور سے ہار کر اپنی سیاہیاں سمیٹ رہی تھی ایک بے چین روح ،جسم کے پنجرے میں پھڑپھڑاتے ہوئے نڈھال ہوچکی تھی۔ ایسے میں تھک ہار کر دماغ نے اپنا دفاعی نظام فعال کیا اور جسم کے پنجرے کو روح سمیت نیند کی وادی میں عارضی سکون کے لیے بھیج دیا۔ نیند کی وادی میں ایک مقام خواب نگر بھی ہے۔ جہاں سیلانی روحیں سوکر بھی بے چینی کے سامان مہیا کر لیتی ہیں۔ خیر یہ نیم بسمل نیند کی وادی میں اترتے ہی خواب نگر چل دیا۔
آج یہاں کچھ نیا دیکھنے کو ملا ۔ شاعر اور بابا اکٹھے بیٹھے تھے۔ بابا جی کے ہاتھ میں 14 اگست کی پہچان بننے والا بڑا باجا تھا جبکہ شاعر تہذیب حافی کو سن رہا تھا۔ یا خدا یہ ماجرا کیا ہے؟ بابا جی نے سیلانی روح کو دیکھتے ہی زور سے باجا بجایا جبکہ شاعر نے علی زریون کی طرح اٹھ کر بابا جی کا منہ چوما۔
روح نے بذبان جسم سوال کیا کہ کچھ ہمیں بھی سمجھائیں یہ کیا ماجرا ہے ۔ مغالطہ کی کتابوں میں تو آپ کا کردار بہت مثبت اور لازوال ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر ہم سب اور چند مخصوص لوگ لکھتے ہیں کہ، بابا نام کا مسلمان تھا جبکہ شاعر اوسط درجے کا درباری مزاج آدمی تھا۔
بابا نے سگار نکالا شاعر نے سامنے دھرا حقہ گڑگڑایا اور دونوں نے دھواں میرے منہ پر چھوڑا۔ بابا نے شاعر کو دیکھا اور قہقہہ لگایا ۔ میں نے الجھ کر پوچھا کہ مجھے میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟
بابا گویا ہوئے مغالطہ ہو یا اصل تاریخ مجھے ہیرو کہو یا زیرو۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میری تصویر آج بھی پاکستان میں ہر کام ممکن بنا دیتی یے۔ اور اس لحاظ سے تو مجھے پیر ماننا چاہیئے۔
شاعر نے طنزیہ انداز میں اضافہ کیا۔۔۔۔
یہ فیضان نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسناعیل کو آداب فرزندی
جس ہجوم کو اتنا نہ پتہ ہوکہ اس شعر کا مطلب کیا ہے اور اسے مکتب پر لکھنا چاہیئے کہ نہیں۔ وہ مجھے
درباری شاعر کہیں یا بڑا شاعر کیا فرق پڑتا ہے۔
زچ ہو کر وہاں سے نکلے تو کچھ دور ایک شخص کچھ لکھ رہاتھا قریب گئے تو عنوان تھا سحر ہونے تک کے دوران۔۔۔۔۔۔ تعجب ہوا لیکن خوشی بھی بے ساختہ سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ سر آپ نے تو ملک کا سب سے اہم دفاعی اثاثہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں نہیں کیا۔ کچھ کہتے ہیں آپ نے دفاعی راز پہلے کسی اور سلطنت سے چوری کیا، کچھ کہتے ہیں بعد میں بیچا۔ ماجرا کیا ہے؟ آپ کو
پابند بھی رکھا گیا تھا۔۔۔۔
اس شخص نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور بولا مجھے چور کہو یا غدار یہ تو سچ ہے نا کہ اسی ایک ہتھیار پے تم لوگ ہر جگہ ہر ملک سے براہ راست آنکھیں نکال کر بات کر لیتے ہو۔
میرے نام پے بچوں کو مغالطہ بھی پڑھاتے ہو اور اسی بل بوتے پر دشمنون سے امن دوستوں سے امداد لے لیتے ہو۔ میں نے تو بقول تمہارے چوری کی تھی تم لوگ تو پوری دنیا کو بلیک میل کر رہے ظالمو۔۔۔۔۔
ہم اپنا سا منہ لے کر چل دیے۔ آج ہو کیا رہا تھا۔۔۔۔ ایک دم ایک وین ہمارے پاس رکی اس سے ایک نحیف بزرگ اترے مجھے بازو سے پکڑا اور گاڑی میں سوار کیا۔ کہنے لگے بیٹا تم سوتے بہت ہو اور سوچتے بھی بہت ہو۔ بہت گھومے خواب نگر اب واپس چلو ۔
ہم نے کہا آپ ہمیں چھوڑنے کیوں چل دیے انہوں نے کہا جوانی اور بڑھاپا اسی کام میں گزرا ہے ۔ میں نے چونک کر پوچھا آپ کون ہیں
انہوں نے گاڑی روکی اور ہمیں بینچے اترنے کا اشارہ کیا۔ ہم نیچے اترے پھر سوال دہرایا۔ ۔
آپ ہیں کون؟” ناجائز کہلانے والوں کا والد” جس کا تمہارے علما میں سے بعض کے نزدیک جنازہ پڑھنا حرام تھا۔
ایک دم ہمیں جھٹکا لگا ہ۔ تڑپ کرانہیں روکنےکو بڑھے لیکن بستر پر کروٹ بدل کر رہ گئے۔ آنکھ کھلی تو موذن کہہ رہا تھا
حی علی الفلاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
مبشر حسن شاہ
