ایک ما ں اپنے بچے کو نو ماہ اپنے وجود میں محفوظ رکھتی ہے ۔ہر سانس کے ساتھ اس کی حفاظت کرتی ہے۔ ہر درد کو سہتی ہے ۔ہر دعا میں اس کی سلامتی مانگتی ہے ۔پھر وہ دن اتا ہے جب اپنے وجود کا ٹکڑا ریاست کے نظام صحت کے حوالے کرتی ہے۔ اور یقین کے ساتھ کہ میرا بچہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ مگر جب وہی بچہ ہسپتال کی نر سری میں ریاستی غفلت کی اگ کی نظر ہو جائے تو ایک ماں کس سے پوچھے کہ آخر اس کا قصور کیا تھا؟
پمز ہسپتال میں نرسری میں پیش انے والا یہ سانحہ صرف چند معصوم جانوں کا ضیا ع نہیں بلکہ پورے نظام صحت، نگرانی، انتظامی ذمہ داری اور حفاظتی اقدامات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ؟ اخر اگ اتنی دیر تک کیسے پھیل گئی ؟ حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا نظام کہاں تھا ؟ نگرانی کون کر رہا تھا ؟ اور اگر یہ محض ایک حادثہ تھا تو پھر اس حادثے کی ذمہ داری طے کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟
سب سے زیادہ چیڑ دینے والی اواز ان ماؤں کی ہے۔ جنہوں نے اپنے بچوں کو اپنی انکھوں کے سامنے نہیں بلکہ ریاست کی حفاظت میں چھوڑا تھا۔ ان کے سوالوں کو محض چند رسمی بیانات یا ایک تحقیقاتی ٹیم کے اعلان سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنے بچوں کی میتیں نہیں، بلکہ مکمل حقیقت اور انصاف مانگ رہی ہیں۔
یہ بچے کسی فائل کا نمبر نہیں تھے ،کسی وارڈ کی گنتی نہیں تھے۔ وہ کسی ماں کی پوری دنیا تھے ،کسی باپ کی امید تھے، کسی گھر کی خوشی تھے ، ایک نو مولود کی زندگی ختم ہونے کا مطلب صرف ایک سانس کا رک جانا نہیں ایک پورے خاندان کی دنیا کا اجر جانا ہے ۔پھر اس سانحہ کے بعد حکمرانوں اور ذمہ دار اہلکاروں کا سرد رویہ والدین کے دکھ کے سامنے سخت طرز عمل زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ مشکل کی گھڑی میں ریاست کا کام اپنے شہریوں کو ڈانٹنا نہیں ان کا سہارا بننا ہوتا ہے.
حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار صرف کرسی, پروٹوکول, اختیارات کا نام نہیں اقتدار دراصل عوام کی امانت ہے، ٹیکس دینے والی شہری صرف سڑکیں ،عمارتیں، اور ادارے نہیں مانگتے ،وہ اپنے بچوں کے لیے محفوظ ہسپتال ،ذمہ دار نظام اور بروقت تحفظ بھی چاہتے ہیں ،
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سانچے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، غفلت کے ذمہ داروں کا تعین ہو ، متاثرہ خاندانوں کو مکمل معلومات و نصاب فراہم کیا جائے اور ہسپتالوں میں حفاظتی نظام کا از سر نو جائزہ لیا جائے تاکہ کسی اور ماں کو اپنی گود اجڑنے کا یہ سوال نہ سہنا پڑے کہ میں نے اپنے بچے کو ریاست کی حفاظت میں دیا تھا پھر اسے ریاست کی غفلت کیوں لے گئی؟۔
یہ سوال صرف ان والدین کا نہیں ہم سب کا سوال ہے۔ کیونکہ اج کسی اور کی گود اجڑی ہے کل یہ اگ کسی اور گھر کا چراغ بجھا سکتی ہے۔ ریاست اگر اپنے سب سے کمزور اور بے زبان شہریوں یعنی ان معصوم بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتی تو پھر ہمیں اپنے پورے نظام صحت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا نو ماہ ماں نے حفاظت کی، اور چند لمحوں کی ریاستی غفلت نے پوری زندگی کا دکھ دے دیا۔ اب وقت صرف افسوس کا نہیں ،جواب دہی، اصلاحاور عملی اقدام کا ہے
